جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 502

جنگ مقدّس — Page 192

روحانی خزائن جلد ۶ 190 جنگ مقدس اس کا بہت غور نہیں کیا۔ گیارہ ۔ جناب کا صاحب کرامات ہونے کا دعوی نہایت ہی واضح طور پر غلط ثابت کیا گیا۔ جناب الزامی جواب دے کر پہلو تہی کر گئے ۔ یہ ہفتہ گذشتہ کی کارروائیاں ہیں فرمائیے ہماری کونسی دلیل توڑی گئی۔ ہاں یک شوشہ یک نقطہ بھر اس میں فرق آیا ؟ ۔ جناب تو اپنی تاویلوں میں لگے رہے اور ہماری باتوں پر آپ نے توجہ نہ فرمائی۔ اب پھر اس مباحثہ کے پہلے حصہ کا آخری وقت ہے۔ میں خدا کا واسطہ دے کے عرض کرتا ہوں ۔ بروئے کلام الہی خدا جو اگلے زمانوں میں نبیوں کے وسیلہ بولا بالآخر اپنے بیٹے کے وسیلہ سے دین آسمانی اور راہ نجات اور گناہوں کی بخشش ہمیں عنایت کر چکا ہے۔ اور ہر ایک کو چاہیے کہ تعصب کو دور کر کے خدا کی رضا مندی کو اپنا شامل کرے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ بے شک المسیح ابن وحید اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اور کلمہ مجسمہ اللہ کا ہے اور آخری دن کل آدمیوں کا انصاف کرنے والا بھی ہوگا ۔ مباہلہ کے حق میں مختصر عرض ہے کہ لعنت دینا یا چاہنا ہمارے خدا کی تعلیم نہیں وہ اپنی کسی مخلوق سے عداوت نہیں رکھتا اور مینہہ اور روشنی اپنے راستوں اور نا راستوں کو برابر بخشتا ہے ۔ جس مذہب میں لعنتیں جائز ہوں ان کے پیروؤں کو اختیار ہے مانیں اور مانگیں ۔ لیکن ہم شاہ سلامتی کے فرزند ہیں اور جیسا ہم اپنے لئے دعائے خیر اور رحمت اور بخشش کے طالب ہیں ویسا ہی بعوض لعنت کے ہم آپ صاحبوں کے لئے بھی خواہاں برکت کے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی بے حد رحمت سے صراط مستقیم آپ کو عطا کرے اپنے امن اور ایمان میں لاوے تا کہ جب اس جہان فانی سے ملک جاودانی کو آپ گزر کریں تو عاقبت بخیر ہو وے ۔ ایک آخری عرض ہے جناب مرزا صاحب آپ حد سے قدم بڑھا کر چڑھ آئے ہیں ۔ گستاخی معاف میں دل کی صفائی سے کہتا ہوں اور بروئے الہام نہ معلوم از کجا یافتہ