جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 502

جنگ مقدّس — Page 188

روحانی خزائن جلد ۶ موجب پیشگوئی المسیح کے۔ ۱۸۶ جنگ مقدس دوئم ۔ پھر آپ نے یونی ٹیرین کی بابت پیش کیا۔ جناب من یہ عیسائیوں کے کسی فرقہ میں سے کوئی فرقہ نہیں۔ سارے جہان کی حماقت اور کفر کا جواب آپ مجھ سے کیوں مانگتے ہیں اور رومن کیتھلک لوگ اپنے دل کے کفر سے مریم کو خدا کی ماں قرار دیتے ہیں اور ادھر یونی ٹیرین حماقت سے اور طرح پر پورا کرتے ہیں میرا ان میں کیا واسطہ ہے۔ کلام میرے ہاتھ میں ہے عبارت اس کی موجود ہے غلطی پر ہوں تو مجھے قائل کیجئے ۔ ورنہ ان تاریک فہموں کی آپ کیا نظیر دیتے ہیں۔ ہمارا ایمان مسیح پر فرقوں پر نہیں ۔ اس طرح کے اگر میں الزامی جواب دینے چاہوں تو اسلام پر کتنے فتور اس وقت پیش کر سکتا ہوں ۔ جناب من اپنے گھر کی حالت دیکھ کر تکلیف فرمائیے اور نہ کسی انسان کے ماننے اور نہ ماننے پر مدارر کیے لیکن کتاب اللہ پر ۔ جناب نے ایسی دلیل طلب کی ہے جس میں کسی کا شک نہ ہو۔ صاف اقرار کرتا ہوں کہ میں نے کہ میں عاجز ہوں میں کیا بلکہ خدا بھی عاجز ہے۔ اسکے وجود پاک سے بڑھ کر کوئی بات دنیا میں روشن ہے تو بھی آپکو ہزار احمق نہ ملیں گے جو کہیں گے کہ خدا کوئی چیز نہیں ۔ جب جناب باری کی ذات پاک میں آپ حرف لاتے ہیں اور اس معبود حق کی نسبت شک کرتے ہیں جس کے جلال سے سارا جہاں معمور ہے تو کون سی دلیل پیش کریں جس میں اگلا حرف نہ لاوے۔ آگے جناب کا یہ فرمانا تھا کہ مسیحی دین اگر بے پھل ہے تو پھر یہ کیوں حق ہے ۔ صاحب من یہ بے پھل نہیں اپنے موقعہ پر یعنی اسی ہفتہ میں آپ کی خدمت میں پھل پیش کئے جاویں گے لیکن یہاں آپ کے ساتھ میرا سخت تنازعہ ہے آپ نے مجھے کیوں منافق بنایا۔ ریا کار ٹھہرایا کہ جو میں زبان سے کہتا ہوں وہ دل سے نہیں کہ آپ نے ایسا الزام مجھے لگا دیا۔ پیغمبری کے دعوے تو میں آپ کے سنتا رہا لیکن یہ تو دعویٰ الہی ہے کہ آپ دلوں کے جانچنے والے ہیں ۔ آخری عرض یہ ہے کہ مناسب ہے کہ خالق کی ذات شریف مخلوق کی سمجھ میں نہ آوے۔ خدا تعالیٰ جو ہے ذات ہی ذات ہے اور اگر اس کی ذات پاک کو ہم سمجھ لیں تو پرے کیا رہا۔ ہم اسکے مساوی نہ ہو گئے بے شک ہو گئے ۔ اس لئے میں محمدی وحدانیت کا قائل نہیں ہوسکتا تو بچہ بھی سمجھ سکتا ہے اور