جنگ مقدّس — Page 179
روحانی خزائن جلد ۶ 122 جنگ مقدس جیسا وہ تین دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ابن آدم بھی تین دن زمین کے رحم میں رہے گا۔ اپنی موت اور دفنانے اور جی اٹھنے کی نشانی دی اور اس سے بڑھ کر معجزہ کبھی دنیا میں ہوا نہیں ۲۱ انہوں نے ایک معجزہ دکھایا۔ یوحنا ہے باب رسول کہتا ہے کئی اور کام اس نے کیئے اور اپنا کام کا واسطہ کیا دیتے ہیں۔ دیکھئے یوحنا ۱۴ دسواں ۔ آپ کا یہ سوال ہے کہ وہ صلیب سے کیوں نہ اتر آئے۔ کس طرح اترتے ؟ اسی کام کے لئے تو جہاں میں آئے تھے کہ اپنے تئیں جہاں کا کفارہ کریں۔ ہاں اسی طرح تو شیطان نے کہا تھا کہ تو پتھروں کی روٹی بنا اور نہ انہوں نے وہ کیا نہ یہ کیا۔ کیونکہ ان ہر کاموں میں شیطان کی پرستش تھی آپ فرماتے ہیں کہ اگر اتر آتے تو یہودی فوراً ایمان لاتے یہ آپ کو کیونکر معلوم ہے کون سا دیگر معجزہ دیکھ کر ایمان لائے تھے اور ان کو جی اٹھا دیکھ کر کون سے ایماندار بنے۔ صاحب من تمیز کسی معجزہ سے ایمان نہیں پیدا ہوتا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون کو تھوڑے معجزہ دکھائے۔ تو بھی وہ سنگدل کا فر ہی رہا۔ شرط نہیں کہ ساتھ معجزہ کے ایمان بھی ہوگا۔ یعنی دیکھنے والے میں ہو نہ ہو امرالہی ہے۔ فرعون کی میں نے نظیر دی ہے۔ لعزر نام ایک شخص کو امسیح نے مردوں میں سے زندہ کیا۔ یہودی ایسے قہر سے بھر گئے ۔ تجویز کرنے لگے کہ ان دونوں کو ہلاک کر دیں۔ صاف انجیل جلالی میں آیا ہے اگر وہ موسیٰ اور نوشتوں پر ایمان نہ لائیں تو مردوں میں سے کوئی جائے گا تو وہ ایمان نہ لائیں گے۔ گیارہواں۔ آپ نے فرمایا تھا کہ انسان کا بدن چار چار سال کے بعد تبدیل ہو جاتا ہے۔ لہذا کفارہ کیونکر ہوا۔ چار برس کے بعد نہیں سات برس کے بعد وقوع میں ہوتا ہے۔ خیر بدن کی تبدیلی ہو وجود نہیں بدلتا۔ جناب کی رائے میں اس باعث سے کفارہ محال تھا اب تو شائد یہ بھی مانیں گے کہ سات برس کے بعد چار برس کے بعد مرد اپنی بی بی کا خاوند نہ ٹھہرتا اور نہ اپنے بچوں کا