جنگ مقدّس — Page 170
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۶۸ جنگ مقدس تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے یعنی جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں سیاری سچائی کی راہ بتادے گی اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن وہ جو کچھ سنے گی وہ کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی ۔ حضرات عیسائی صاحبان اس جگہ روح حق سے روح القدس مراد لیتے ہیں اور اس طرف توجہ نہیں فرماتے کہ روح القدس تو ان کے اصول کے موافق خدا ہے تو پھر وہ کس سے سنے گا۔ حالانکہ لفظ پیشگوئی کے یہ ہیں کہ جو کچھ وہ سنے گی وہ کہے گی ۔ اب پھر ہم اس پہلے مضمون کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ ڈپٹی صاحب موصوف نے تو حضرت مسیح کے خدا ہونے پر کوئی معقولی دلیل انجیل سے پیش نہ کی ۔ لیکن ہم ایک اور دلیل قرآن کریم سے پیش کر دیتے ہیں کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے اللهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ هَلْ مِنْ شُرَكَا بِكُمْ مَّنْ يَفْعَلُ مِنْ ذَلِكُمْ مِنْ شَيْءٍ سُبْحَنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يُشْرِكُونَ ( پارہ ۲۱ رکوع ۷ ( یعنی اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہیں رزق دیا پھر تمہیں مارے گا پھر زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے معبودوں میں سے جو انسانوں میں سے ہیں کوئی ایسا کر سکتا ہے۔ پاک ہے خدا ان بہتانوں سے جو مشرک لوگ اس پر لگا رہے ہیں۔ پھر فرماتا ہے۔ آخم جَعَلُو اللَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ کیا انہوں نے خدا تعالی کے شریک ایسی صفات کے ٹھہرا ر کھے ہیں کہ جیسے خدا تعالی خالق ہے وہ بھی خالق ہیں تا اس دلیل سے انہوں نے ان کو خدا مان لیا ۔ ان کو کہہ دے کہ ثابت شدہ یہی امر ہے کہ اللہ تعالی خالق ہر ایک چیز کا ہے اور وہی اکیلا ہر ایک چیز پر غالب اور قاہر ہے۔ اس قرآنی دلیل کے موافق ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب سے میں نے دریافت کیا تھا کہ اگر آپ صاحبوں کی نظر میں در حقیقت حضرت مسیح خدا ہیں تو ان کی خالقیت وغیرہ صفات الوہیت کا ثبوت دیجئے ۔ کیونکہ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ خدا اپنی صفات کو آسمان پر چھوڑ کر نرا مجرد اور بر ہنہ ہو کر دنیا میں آ جائے اس کی صفات اس کی ذات سے لازم غیر منفک ہیں اور کبھی تعطل جائز نہیں ۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ خدا ہو کر پھر خدائی کی صفات کا ملہ ظاہر کرنے الروم : ١ الرعد:۱۷