جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 502

جنگ مقدّس — Page 169

روحانی خزائن جلد ۶ 172 جنگ مقدس مِنْ دُونِ اللهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلهَا وَاحِدًا لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ | سُبْحَنَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ - يُرِيدُونَ أَنْ تُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى الله إلا أن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ - هُوَالَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْكَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (۱۱) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کہا بعض یہود نے کہ عزیر خدا کا بیٹا ہے اور کہا نصاری نے مسیح خدا کا بیٹا ہے یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں جن کا کوئی بھی ثبوت نہیں ریس کرنے لگے ان لوگوں کی جو پہلے اس سے کا فر ہو چکے یعنی جو انسانوں کو خدا اور خدا کے بیٹے قرار دے چکے یہ ہلاک کئے جائیں کیسے یہ تعلیم سے پھر گئے ۔ انہوں نے اپنے عالموں کو اپنے درویشوں کو اللہ کے سوا پروردگار ٹھہرالیا۔ اور ایسا ہی مسیح ابن مریم کو حالا نکہ ہم نے یہ حکم کیا تھا کہ تم کسی کی بندگی نہ کرومگر ایک کی جو خدا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ۔ چاہتے ہیں کہ اپنے مونہوں کی پھونکوں سے حق کو بجھا دیں اور اللہ تعالی باز نہیں رہے گا جب تک اپنے نور کو پورا نہ کرے اگر چہ کا فرنا خوش ہوں وہ وہی خدا ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تا وہ دین سب دینوں پر غالب ہو جائے۔ اگر چہ مشرک ناخوش ہوں“۔ اب دیکھیے کہ ان آیات کریمہ میں اللہ جل شانہ نے صاف طور پر فرمایا ہے کہ عیسائیوں سے پہلے یہودی یعنی بعض یہودی (۷۸) بھی عزیر کو ابن اللہ قرار دے چکے اور نہ صرف وہی بلکہ مقدم زمانہ کے کافر بھی اپنے پیشواؤں اور اماموں کو یہی منصب دے چکے پھر ان کے پاس اس بات پر کیا دلیل ہے کہ وہ لوگ اپنے اماموں کو خدا ٹھہرانے میں جھوٹے تھے اور یہ بچے ہیں۔ اور پھر اس بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ یہی خرابیاں دنیا میں پڑ گئی تھیں جن کی اصلاح کے لئے اس رسول کو بھیجا گیا تا کامل تعلیم کے ساتھ ان خرابیوں کو دور کرے کیونکہ اگر یہودیوں کے ہاتھ میں کوئی کامل تعلیم ہوتی ۔ تو وہ برخلاف توربیت کے اپنے عالموں اور درویشوں کو ہرگز خدا نہ ٹھہراتے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ کامل تعلیم کے محتاج تھے۔ جیسا کہ حضرت مسیح نے بھی اس بات کا اقرار کیا کہ ابھی بہت سی با تیں تعلیم کی باقی ہیں کہ التوبة : ٣٠ تا ٣٣