جنگ مقدّس — Page 162
روحانی خزائن جلد ۶ 17۔ میان ڈیٹی عبداللہ انتظم صاحب ۲۷ مئی ۱۸۹۳ء جنگ مقدس اول درباره راه نجات و نشانات نجات یافتگان جو جناب مرزا صاحب نے بیان کئے ہیں ہم نے پہلے اِس سے بیان کر دیا ہے کہ ہفتہ آئندہ کے شروع میں اس کی بحث پوری شروع ہوگی اس جگہ بھی ہم اس قدر اشارہ کر دیتے ہیں کہ آپ کے لفظ نجات کی تعریف بہت ہی نامکمل ہے اور آپ کو ضرور نہ تھا کہ طریقہ نجات مسیحان کو مصنوعی اور غیر طبعی اور باطل فرماتے ۔ بہر کیف جو آپ نے فرمایا ہے وہ آگے دیکھا جائے گا جب ہماری باری اعتراضات کی ہوگی۔ دوم ۔ انجیل یوحنا کی باب ۱۰ پیش کردہ آیات کا ہم کافی و وافی جواب دے چکے ہیں آپ نے بجائے اس کے کہ اُس جواب کا کچھ نقص دکھلاتے محض بار بار تکرار ہی اس کا کیا ہے گویا کہ تکرا ر ہی کافی ہے اور طول کلامی ہی گویا صداقت ہے ۔ یوحنا کے باب ۱۰۔۳۶ میں جہاں لفظ مخصوص اور بھیجا ہوا ترجمہ ہوا ہے ہماری اس شرح پر کہ لفظ مخصوص کا اصل زبان میں بمعنے تقدیس کیا گیا ہے۔ اور بھیجا ہوا اسی پر ایما ء کرتا ہے جو اُس نے فرمایا کہ میں آسمانی ہوں اور تم زمینی ہو ۔ یہ لفظ جتنے حوالہ آپ نے دیئے ہیں اور کسی بزرگ کے بارہ میں پائے نہیں جاتے۔ یسعیا تا سطروں کے ترجمہ میں لفظ ار خومائی ہے جس کے معنے بھیجا ہوا ہے۔ پہلے سمویل ہوا میں لفظ ایسنسن ای لو معنے وہی ہیں۔ پیدائش 2 میں بھی اور یرمیا T میں لفظ بادی زی جس کے معنے جاکے ہیں اور یہ الفاظ مقام متنازعہ کے لفظهی گی آسے سے بہت ہی متفرق ہیں اور ان الفاظ کا تعلق مقام متنازعہ سے کچھ نہیں ہے اور جو ہم نے کہا وہ درست ہے کہ جس کو خدا نے مخصوص کیا اور بھیجا یعنی آسمان سے بھیجا۔ سوم ۔ کیا یہودی لوگ اسرائیل وغیرہ کو اسی لقب کے باعث کافر سمجھتے تھے ۔ یہ جناب کا سوال ہے ۔ جواب اس کا ہم بار بار دے چکے مگر افسوس کہ جناب کسی باعث سے