جنگ مقدّس — Page 161
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۵۹ جنگ مقدس ہر دو میر مجلسوں کے اُس پر دستخط کئے گئے جو اس کارروائی کے ساتھ ملحق ہے۔ فقط دستخط دستخط بحروف انگریزی۔ ہنری مارٹن کلارک بحروف انگریزی۔ غلام قا در فصیح پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام چونکہ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب بیمار تھے اور انہوں نے اپنے آخری جواب میں ایک پہلے سے لکھی ہوئی تحریر پیش کر کے کہا کہ کوئی اور صاحب ان کی طرف سے سنا دیں۔ اسلئے میر مجلس اہل اسلام نے اسپر اعتراض کیا کہ ایسی تحریر پہلے سے لکھی ہوئی پیش کی جانی خلاف شرائط ہے چنانچہ اس پر ایک عرصہ تک تنازعہ ہوتا رہا۔ آخر کار یہ قرار پایا کہ سوموار کا ایک دن اس زمانہ مباحثہ میں ایزاد کیا جاوے اور ایسا ہی دوسرے زمانہ میں بھی ایک دن اور بڑھا دیا جاوے۔ علاوہ بریں یہ بھی مرزا صاحب کی رضا مندی سے قرار پایا کہ اُس سوموار کے روز مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب خدانخواستہ صحت یاب نہ ہوں تو انکی جگہ کوئی اور صاحب مقرر کئے جاویں اور اس امر کا اختیار ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کو ہوگا ۔ یہ بھی قرار پایا کہ ۲۹ تاریخ کو آخری جواب ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب کا ہو اور دوسرے زمانہ میں آخری جواب مرزا صاحب کا ہوگا ۔ وقت کا لحاظ نہ ہو گا اور گیارہ بجے کے اندر اندر کارروائی ختم ہوگی یعنی آخری زمانہ مجیب کا حق ہو گا کہ جواب دے اور اُس کے جواب کے بعد اگر وقت بچے تو سائل کو وقت نہیں دیا جاوے گا اور جلسہ برخاست کیا جاوے گا۔ چونکہ مذکورہ بالا اول الذکر امر فیصلہ طلب تھا اس لیئے اتفاق رائے سے اس کا یوں فیصلہ ہوا کہ آئندہ کوئی مضمون تحریری پہلے کا لکھا ہوا لفظ بہ لفظ نقل نہیں کرایا جا سکتا اور یہ فیصلہ بہ مراضی فریقین ہوا اور فریقین پر کوئی اعتراض نہیں۔ دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک ( پریزیڈنٹ ) از جانب عیسائی صاحبان ۲۷ مئی ۱۸۹۳ء دستخط بحروف انگریزی غلام قادر سیح ( پریزیڈنٹ ) از جانب اہل اسلام