جنگ مقدّس — Page 156
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۵۴ جنگ مقدس ایماندار ہو تو تمہاری یہی علامت ہے کہ بیمار پر ہاتھ رکھو گے تو وہ چنگا ہو جائیگا اب گستاخی معاف اگر آپ بچے ایماندار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اسوقت تین بیمار آپ ہی کے پیش کردہ موجود ہیں آپ اُن پر ہاتھ رکھدیں اگر وہ چنگے ہو گئے تو ہم قبول کر لیں گے کہ بیشک آپ بچے ایماندار اور نجات یافتہ ہیں ورنہ کوئی قبول کرنے کی راہ نہیں کیونکہ حضرت مسیح تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر تم میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان ہوتا تو اگر تم پہاڑ کو کہتے کہ یہاں سے چلا جا تو وہ چلا جاتا مگر خیر میں اس وقت پہاڑ کی نقل مکانی تو آپ سے نہیں چاہتا کیونکہ وہ ہماری اس جگہ سے دور ہیں لیکن یہ تو بہت اچھی تقریب ہوگئی کہ بیمار تو آپ نے ہی پیش کر دئیے اب آپ ان پر ہاتھ رکھو اور چنگا کر کے دکھلاؤ ورنہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہاتھ سے جاتا رہے گا مگر آپ پر یہ واضح رہے کہ یہ الزام ہم پر عائد نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں ہماری یہ نشانی نہیں رکھی کہ بالخصوصیت تمہاری یہی نشانی ہے کہ جب تم بیماروں پر ہاتھ رکھو گے تو اچھے ہو جائیں گے ہاں یہ فرمایا ہے کہ میں اپنی رضا اور مرضی کے موافق تمہاری دعائیں قبول کرونگا اور کم سے کم یہ کہ اگر ایک دعا قبول کرنے کے لائق نہ ہو اور مصلحت الہی کے مخالف ہو تو اس میں اطلاع دیجائیگی یہ کہیں نہیں فرمایا کہ تم کو یہ اقتدار دیا جائیگا کہ تم اقتداری طور پر جو چاہو وہی کر گزرو گے مگر حضرت مسیح کا تو یہ حکم معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیماروں وغیرہ کے چنگا کرنے میں اپنے تابعین کو اختیار بخشتے ہیں جیسا کہ متی ، ا باب ا میں لکھا ہے پھر اُس نے بارہ شاگردوں کو پاس بلا کے انہیں قدرت بخشی کہ نا پاک روحوں کو نکالیں اور ہر طرح کی بیماری اور دُکھ درد کو دور کریں ۔ اب یہ آپکا فرض اور آپکی ایمانداری کا ضرور نشان ہو گیا کہ آپ ان بیماروں کو چنگا کر کے دکھلا دیں یا یہ اقرار کریں کہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ہم میں ایمان نہیں اور آپکو یا در ہے کہ ہر ایک شخص اپنی کتاب کے موافق مؤاخذہ کیا جاتا ہے ۔ ہمارے قرآن کریم میں کہیں نہیں لکھا کہ تمہیں اقتدار