جنگ مقدّس — Page 155
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۵۳ جنگ مقدس لفظ آئے ہیں کا فر خیال کرتے تھے نہیں بلکہ سوال ان کا تو یہی تھا کہ ان کو بھی دھوکا لگا تھا۔ کہ حضرت مسیح حقیقت میں اپنے تئیں اللہ کا بیٹا سمجھتے ہیں اور چونکہ جواب مطابق سوال چاہیے اس لیے حضرت مسیح کا فرض تھا کہ وہ اُن کے جواب میں وہی طریق اختیار کرتے جس طریق کے لئے اُن کا استفسار تھا اگر حقیقت میں خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے تو وہ پیشگوئیاں جو ڈ پٹی عبد اللہ آتھم صاحب بعد از وقت اس مجلس میں پیش کر رہے ہیں کے سامنے پیش کرتے اور چند نمونہ خدا ہونے کے دکھلا دیتے تو فیصلہ ہو جاتا یہ بات ہر گز صحیح نہیں ہے کہ یہودیوں کا سوال حقیقی ابن اللہ کے دلائل دریافت کرنے کے لئے نہیں تھا۔ اس مقام میں زیادہ لکھنے کی کچھ ضرورت نہیں اب بعد اس کے واضح ہو کہ میں نے ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب کی خدمت میں یہ تحریر کیا تھا کہ جیسے کہ آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ نجات صرف مسیحی مذہب میں ہے ایسا ہی قرآن میں لکھا ہے کہ نجات صرف اسلام میں ہے اور آپ کا تو صرف اپنے لفظوں کے ساتھ دعوئی اور میں نے وہ آیات بھی پیش کر دی ہیں لیکن ظاہر ہے کہ دعویٰ بغیر ثبوت کے کچھ عزت اور وقعت نہیں رکھتا ۔ سو اس بناء پر دریافت کیا گیا (۶۵) تھا کہ قرآن کریم میں تو نجات یا بندہ کی نشانیاں لکھی ہیں جن نشانوں کے مطابق ہم دیکھتے ہیں کہ اس مقدس کتاب کی پیروی کرنے والے نجات کو اسی زندگی میں پالیتے ہیں مگر آپ کے مذہب میں حضرت عیسی نے جو نشانیاں نجات یا بندوں یعنی حقیقی ایمانداروں کی لکھی ہیں وہ آپ میں کہاں موجود ہیں۔ مثلاً جیسے کہ مرقس ۱۶۔ ۱۷ میں لکھا ہے ۔ اور دے جو ایمان لائیں گے اُن کے ساتھ یہ علامتیں ہوں گی کہ وہ میرے نام سے دیووں کو نکالیں گے اور نئی زبانیں بولیں گے سانپوں کو اُٹھا لیں گے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چیز پیئیں گے انہیں کچھ نقصان نہ ہوگا ۔ وے بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو چنگے ہو جائیں گے۔ تو اب میں بادب التماس کرتا ہوں اور اگر ان الفاظ میں کچھ درشتی یا مرارت ہو تو اُس کی معافی چاہتا ہوں کہ یہ تین بیمار جو آپ نے پیش کئے ہیں یہ علامت تو بالخصوصیت مسیحیوں کے لئے حضرت عیسی قرار دے چکے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر تم سچے مرقس باب ۱۶ آیت ۱۸،۱۷۔ (ناشر)