ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 642
صفحہ ۶۳۔خدا کا شکر ہے کہ میں دنیا داروں کے بر خلاف اُس سرچشمہئِ نعمت کی خواہش کی وجہ سے سینکڑوں دکھ خریدتا ہوں۔خدا کی مہربانیوں اور اُس ذاتِ اقدس کے فضل وکرم سے مَیں بھی اُس کلیم کی محبت کی خاطر فرعونی لوگوں کا دشمن ہوں۔اُس کا وہ خاص مقام اور مرتبہ جو مجھ پر ظاہر ہوا میں اس کا ضرور ذکر کرتا اگر اس راہ میں کوئی سلیم فطرت والا پاتا۔محمدؐ کے عشق میں میرا سر اور میری جان قربان ہو۔یہی میری خواہش، میری دعا اور میرا دلی ارادہ ہے صفحہ ۷۴۔بد خواہ کی آنکھ کہ خدا کرے پھوٹ جائے اسے ہنر بھی عیب دکھائی دیتا ہے صفحہ ۷۸۔تجربہ کار شکاریوں کے باز کی آنکھ ہے تو کھلنے کے لئے ہی، اگرچہ اس وقت انہوں نے سی رکھی ہے صفحہ ۸۵۔بادل، ہوا، چاند، سورج اور آسمان سب کام کررہے ہیں تا تو خوراک حاصل کرے اور غفلت میں نہ کھائے۔یہ سب تیری خاطر پریشان اور فرمانبردار ہیں یہ انصاف نہ ہوگا اگر تو حکم نہ مانے صفحہ ۱۰۴۔وہ عقلمندنہیں جو ناشیکبائی نفس کے باعث فوراً حق کا انکار کر دیتا ہے۔طالب حق کو صبر چاہیے کہ دنیا میں ہر بیج جو بھی مخفی خاصیت رکھتا ہے اسی کے مطابق پھل لاتا ہے۔انسان کو کچھ نورِ فراست بھی چاہیے تا کہ صداقت اپنے تئیں خود ظاہر کر دے۔صادقوں کا اندرونی صدق چھپا ہوا نہیں رہ سکتا۔مخفی نور انسان کی پیشانی پر چمک پیدا کر دیتا ہے۔وہ شخص جس نے کسی کے ہاتھ سے شرابِ وصل کے پیالے پیئے ہوں اُس کا منہ ہر وقت اُس یار کے وصل کا سرور ظاہر کرتا رہتا ہے صفحہ ۱۵۷۔بارش جس کی پاکیزہ فطرت میں کوئی ناموافقت نہیں وہ باغ میں تو پھول اگاتی ہے اور شورہ زمین میں گھاس پھونس