ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 636
۶۳۶ ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳ جس کا قرآن وحدیث میں کوئی اثر و نشان نہیں پایا جاتا۔ پھر مولوی صاحب پر ڈر اس قدر غالب ہے کہ آپ ہی بحث کے لئے بلاتے اور آپ ہی کنارہ کر جاتے ہیں۔ ناظرین کو معلوم ہوگا کہ مولوی صاحب نے ایک بڑے کروفر سے ۱۶ / اپریل ۱۸۹۱ء کو تار بھیج کر اس عاجز کو بحث کے لئے بلایا کہ جلد آؤ اور آ کر بحث کر دور نہ شکست یافتہ سمجھے جاؤ گے۔ اُس وقت بڑی خوشی ہوئی کہ مولوی صاحب نے اس طرف رخ تو کیا۔ اور شوق ہوا کہ اب دیکھیں کہ مولوی صاحب حضرت مسیح ابن مریم کے زندہ مع الجسد اُٹھائے جانے کا کون سا ثبوت پیش کرتے ہیں یا بعد موت کے پھر زندہ ہو جانے کا کوئی ثبوت قرآن کریم یا حدیث صحیح سے نکالتے ہیں چنانچہ لدھیانہ میں ایک عام چرچا ہو گیا کہ مولوی صاحب نے بحث کے لئے بلایا ہے اور سیالکوٹ میں بھی مولوی صاحب نے اپنے ہاتھ سے خط بھیجے کہ ہم نے تار کے ذریعہ سے بلایا ہے لیکن جب اس عاجز کی طرف سے بحث کے لئے تیاری ہوئی اور مولوی صاحب کو پیغام بھیجا گیا تو آپ نے بحث کرنے سے کنارہ کیا اور یہ عذر پیش کر دیا کہ جب تک ازالہ اوہام چھپ نہ جائے ہم بحث نہیں کریں گے ۔ آپ کو اس وقت یہ خیال نہ آیا کہ ہم نے تو بلانے کے لئے تار بھیجی تھی ۔ اور یہ بھی ایک خط میں لکھا تھا کہ ہمیں ازالہ اوہام کے دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اور یہ بھی بار بار ظاہر کر دیا تھا کہ یہ شخص باطل پر ہے۔ اب ازالہ اوہام کی ضرورت کیوں پڑ گئی ۔ تار کے ذریعہ سے یہ پیغام پہنچانا کہ آؤ ورنہ شکست یافتہ سمجھے جاؤ گے اور حبى فى الله اخویم حکیم نور دین صاحب پر نا حق یہ الزام لگانا کہ وہ ہمارے مقابلہ سے بھاگ گئے اور پھر درخواست بحث پر ازالہ اوہام یاد آ جانا عجیب انصاف ہے۔ مولوی صاحب دعوی اس عاجز کا سُن چکے تھے ۔ فتح اسلام اور توضیح مرام کو دیکھ چکے تھے اب صرف قرآن اور حدیث کے ذریعہ سے بحث تھی جس کو مولوی صاحب نے وعدہ کر کے پھر ٹال دیا۔