ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 619
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۱۹ ازالہ اوہام حصہ دوم بقیه حاشیه چشمہ فیض سے حاصل ہوا ہے جس سے وحی نبوت ہے تو یہ اس کو حق پہنچتا ہے (۹۴۲) کیونکہ ظن کو یقین کے تابع کرنا عین معرفت اور سرا سر سیرتِ ایمان ہے ۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ بعض جگہ قرآن میں بھی تعارض پایا جاتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کی سولہ آیتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص فوت ہو جائے پھر دنیا میں کبھی نہیں آسکتا اور دو موتیں کبھی کسی پر وارد نہیں ہو سکتیں لیکن بعض جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کی فلاں قوم کو ہم نے مارا اور پھر زندہ کیا۔ اور ایک نبی عزیز یا کسی اور کو سو برس تک مارا اور پھر زندہ کیا ۔ اور ابراہیم کی معرفت چار جانور زندہ کئے گئے وغیرہ وغیرہ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں ہرگز تعارض نہیں پایا جاتا بلکہ یہ شبہ صرف قلت فہم اور جہالت سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیچ ہے کہ قرآن کریم کی سولہ آیتوں سے کھلے کھلے طور پر یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جو شخص فوت ہو جائے یا وہ آیات جن میں لکھا ہے کہ فوت شدہ لوگ پھر دنیا میں نہیں آتے از انجملہ یہ آیت ہے (الف ) وَحَرُمُ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ الجز و نمبر ۱۷ سورۃ الانبیاء ۔حضرت ابن عباس سے حدیث صحیح میں ہے کہ اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ جن لوگوں پر واقعی طور پر موت وارد ہو جاتی ہے اور در حقیقت فوت ہو جاتے ہیں پھر وہ زندہ کر کے دنیا میں بھیجے نہیں جاتے ۔ یہی روایت تفسیر معالم میں بھی زیر تفسیر آیت موصوفہ بالا حضرت ابن عباس سے منقول ہے ۔ پھر دوسری آیت جو صریح منطوق قرآن کریم ظاہر کر رہا ہے یہ ہے حَتَّی اِذَا جَاءَ حاشیه در حاشیه أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ لَعَلَّى أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَابِلُهَا وَمِنْ وَرَابِهِمُ بَرْزَخٌ إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ - الجز ونمبر ١٨ سورة المؤمنون یعنی جب کافروں میں سے ایک کو موت آتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھ کو پھر دنیا میں بھیجتا ہو کہ میں نیک عمل کروں اور تدارک مافات مجھ سے ہو سکے ۔ تو اس کو کہا جاتا ہے کہ یہ ہر گز نہیں ہوگا۔ یہ صرف اس کا قول ہے یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے ابتدا سے کوئی بھی وعدہ نہیں کہ مردہ کو پھر دنیا میں بھیجے اور الانبياء : ۹۶ المومنون : ١٠١،١٠٠