ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 611
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۱۱ ازالہ اوہام حصہ دوم بقیه حاشیه ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ صحابہ کرام اور سلف صالح کی یہی عادت تھی کہ جب کہیں آیت اور حدیث میں تعارض و تخالف پاتے تو حدیث کی تاویل کی طرف مشغول ہوتے ۔ مگر اب یہ ایسا زمانہ آیا ہے کہ قرآن کریم سے حدیثیں زیادہ پیاری ہوگئی ہیں اور حدیثوں کے الفاظ قرآن کریم کے الفاظ کی نسبت زیادہ محفوظ سمجھے گئے ہیں۔ ادنی ادنی بات میں جب کسی حدیث کا قرآن کریم سے تعارض دیکھتے ہیں تو حدیث کی طرف ذرہ شک نہیں گذرتا یہودیوں کی طرح قرآن کریم کا بدلا نا شروع کر دیتے ہیں اور کلمات اللہ کو ان کے اصل مواضع سے پھیر کر کہیں کا نہیں لگا دیتے ہیں اور بعض فقرے اپنی طرف سے بھی ملا دیتے ہیں اور اپنے تئیں يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِ کا مصداق بنا کر اس لعنت اللہ (۹۳۰) سے حصہ لے لیتے ہیں جو پہلے اس سے یہودیوں پر انہیں کاموں کی وجہ سے وارد و نازل ہوئی تھی۔ بعض تحریف کی یہ صورت اختیار کرتے ہیں کہ فقرہ متوفیک کو مقدم ہی رکھتے ہیں مگر بعد اس کے انی محییک کا فقرہ اپنی طرف سے ملا لیتے ہیں۔ ذرہ خیال نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ نے تحریف کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے اور بخاری نے اپنی صحیح کے آخر میں لکھا ہے کہ اہل کتاب کی تحریف یہی تھی کہ وہ پڑھنے میں کتاب اللہ کے کلمات کو ان کے مواضع سے پھیرتے تھے ( اور حق بات یہ ہے کہ وہ دونوں قسم کی تحریف تحریری و تقریری کرتے تھے ) مسلمانوں نے ایک قسم میں جو تقریری تحریف ہے اُن سے مشابہت پیدا کر لی۔ اور اگر وعدہ صادقہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُوْنَ تصرف تحریری سے مانع نہ ہوتا تو کیا تعجب کہ یہ لوگ رفتہ رفتہ تحریر میں بھی ایسی تحریفیں شروع کر دیتے که فقره رافعک کو مقدم اور انی متوفیک کو مؤخرلکھ دیتے ۔ اور اگر ان سے پوچھا جائے کہ تم پر ایسی مصیبت کیا آپڑی ہے کہ تم کتاب اللہ کے زیر وزبر اور محرف کرنے کی فکر میں لگ گئے تو اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ تا کسی طرح قرآن کریم ان حدیثوں کے مطابق ہو جائے جن سے بظاہر معارض و مخالف معلوم ہوتا ہے۔ ان بے چاروں کو اس بات کی طرف خیال نہیں آتا النساء: ۴۷ الحجر: ١٠