ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 604
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۰۴ ازالہ اوہام حصہ دوم جنہوں نے غرور اور تکبر کی راہ سے یہ دعوی کیا ہے کہ توفی کا لفظ جو قرآن کریم میں حضرت مسیح کی نسبت آیا ہے اس کے معنی پورا لینے کے ہیں یعنی جسم اور روح کو بہ ہیئت کذائی زندہ ہی اٹھا لینا اور وجود مرکب جسم اور روح میں سے کوئی حصہ متروک نہ چھوڑنا بلکہ سب کو بحیثیت کذائی (۲۰) اپنے قبضہ میں زندہ اور صحیح سلامت لے لینا۔ سو اسی معنی سے انکار کر کے یہ شرطی اشتہار ہے۔ ایسا ہی محض نفسانیت اور عدم واقفیت کی راہ سے مولوی محمد حسین صاحب نے الدجّال کے لفظ کی نسبت جو بخاری اور مسلم میں جابجاد جال معہود کا ایک نام ٹھہرایا گیا ہے یہ دعوی کر دیا ہے کہ الدجال وجال معہود کا خاص طور پر نام نہیں بلکہ ان کتابوں میں یہ لفظ دوسرے دجالوں کے لئے بھی مستعمل ہے اور اس دعوئی کے وقت اپنی حدیث دانی کا بھی ایک لمبا چوڑا دعوی کیا ہے۔ سواس وسیع معنی الدجال سے انکار کر کے اور یہ دعوی کر کے کہ یہ لفظ الدجال کا صرف دجال معہود کے لئے آیا ہے اور بطور علم کے اس کے لئے مقرر ہو گیا ہے۔ یہ شرطی اشتہار جاری کیا گیا ہے ۔ مولوی محمد حسین صاحب اور اُن کے ہم خیال علماء نے لفظ توفی اور الدجال کی نسبت اپنے دعوئی متذکرہ بالا کو بپایہ ثبوت پہنچا دیا تو وہ ہزار روپیہ لینے کے مستحق ٹھہریں گے اور نیز عام طور پر یہ عاجز یہ اقرار بھی چند اخباروں میں شائع کر دے گا که در حقیقت مولوی محمد حسین صاحب اور اُن کے ہم خیال فاضل اور واقعی طور پر محدث اور مفسر اور رموز اور دقائق قرآن کریم اور احادیث نبویہ کے سمجھنے والے ہیں ۔ اگر ثابت نہ کر سکے تو پھر یہ ثابت ہو جائے گا کہ یہ لوگ دقائق وحقائق بلکہ سطحی معنوں قرآن اور حدیث کے سمجھنے سے بھی قاصر اور سراسرغبی اور بلید ہیں اور در پردہ اللہ اور رسول کے دشمن ہیں کہ محض الحاد کی راہ سے واقعی اور حقیقی معنوں کو ترک کر کے اپنے گھر کے ایک نئے معنے گھڑتے ہیں۔ ایسا ہی اگر کوئی یہ ثابت کر دکھاوے کہ قرآن کریم کی وہ آیتیں اور احادیث جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کوئی مردہ دنیا میں واپس نہیں آئے گا قطعیۃ الدلالت نہیں اور نیز بجائے