ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 590 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 590

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۹۰ ازالہ اوہام حصہ دوم (۸۹۷) اُن میں داخل ہو گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں فوت شدہ جماعت میں اُس کو پایا۔ دیکھو بخاری صفحہ ۵۰ اور صفحہ ۴۵۵ وصفحہ ۴۷۱ وصفحہ ۵۴۸ و ۱۱۲۰۔ اور ان احادیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ سب نبی اگر چہ دنیوی زندگی کی رو سے مر گئے اور اس جسم کثیف اور اس کے حیات کے لوازم کو چھوڑ گئے لیکن اس عالم میں ایک نئی زندگی جس کو روحانی کہنا چاہیے رکھتے ہیں۔ اور کیا مسیح اور کیا غیر مسیح برابر اور مساوی طور پر اس نئی زندگی کے لوازم اپنے اندر جمع رکھتے ہیں۔ یہی منشاء انجیل میں پطرس کے پہلے خط کا ہے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ وہ یعنی مسیح جسم کے حق میں تو مارا گیا لیکن روح میں زندہ کیا گیا۔ یعنی موت کے بعد مسیح کو روحانی زندگی ملی ہے نہ جسمانی۔ دیکھو پطرس کا پہلا خط تین باب اُنیس آیت۔ اور عبرانیوں کے خط نو باب ستائیں آیت میں لکھا ہے کہ آدمیوں کے لئے ایک بار مرنا ہے ایسا ہی بائبل کے بہت سے مقامات میں موجود ہے کہ راستبازوں کے لئے ایک موت کے بعد پھر حیات ابدی ہے۔ اب اس بات کے ثابت ہونے کے بعد کہ مسیح مر گیا اور روح اس کی فوت شدہ روحوں میں داخل ہے۔ اگر فرض محال کے طور پر پھر اس کا زندہ ہو کر دنیا میں آنا قبول کر لیں تو آسمان سے اتر نا اس کا بہر حال غیر مسلم ہوگا کیونکہ ثابت ہو چکا کہ آسمان پر مرنے کے بعد صرف اس کی روح گئی جو دوسری روحوں میں شامل ہوگئی ۔ ہاں اس فرض کے بناء پر یہ کہنا پڑے گا کہ کسی وقت اس کی قبر پھٹ جائے گی اور اس میں سے باہر آجائے گا اور یہ کسی کا اعتقاد نہیں۔ ماسوا اس کے ایک موت کے بعد پھر دوسری موت ایک عظیم الشان نبی کے لئے تجویز کرنا خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں کے برخلاف ہے۔ اور جو شخص ایک مرتبہ مسیح کو مار کر پھر قیامت کے قریب اسی دنیا میں لاتا ہے اُس کی یہ مرضی ہے کہ سب کے لئے ایک موت اور مسیح کے لئے دو موتیں ہوں جس نے دنیا میں کسی جسم اور صورت میں جنم لیا وہ موت سے بچ نہیں سکتا۔ دیکھو خط دوم پطرس ۳ باب ۱۰ آیت۔ اور منجملہ افادات امام بخاری کے ایک یہ ہے کہ انہوں نے قطعی طور پر اس بات کا فیصلہ دے کر