ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 574
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۷۴ ازالہ اوہام حصہ دوم بلکہ اُس کے بعض اجزاء مسخ شدہ بھی ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں نے کہا تھا کہ آپ ناراض نہ ہوں۔ آپ دین کے حقیقی علم سے بے خبر ہیں۔ خدا تعالیٰ آپ کے ہر یک تکبر کو توڑ دے گا اور آپ کا چہرہ آپ کو دکھلا دے گا۔ افسوس کہ آپ کی کچی با تیں آپ کو شرمندہ نہیں کرتیں۔ اور باجود سخت لا جواب ہو جانے کے پھر بھی علم حدیث کا دعوی چلا جاتا ہے۔ آپ نے کہا تھا کہ الدجال سے مراد خاص مسیح الدجال نہیں بلکہ دوسرے دجالوں کی نسبت بھی صحاح میں الدجال بولا گیا ہے لیکن جب آپ کو کہا گیا کہ یہ سراسر آپ کی غلطی ہے آپ کو حدیث رسول اللہ کا حقیقی علم نصیب نہیں ۔ اگر آپ بجز دجال معہود کے کسی اور کی نسبت یہ لفظ صحاح ستہ میں اطلاق پانا ثابت کریں تو آپ کو پانچ روپے بطور تاوان ملیں گے تو آپ ایسے چپ ہوئے کہ کوئی جواب آپ سے بن نہ پڑا۔ یہ غرور اور تکبر کی سزا ہے کیا۔ بے علمی اسی کا نام ہے یا کسی اور چیز کا کہ آپ نے الدجال کے متعلق حدیث رسول اللہ کے اُلٹے معنے گئے ۸۷۰ اور محض افتراء کے طور پر کچھ کا کچھ گھڑ کے سنا دیا۔ یہی حدیث دانی ہے؟ پھر آپ نے دعوی کیا تھا کہ میں صحیحین کی حدیثوں کا تعارض دور کر سکتا ہوں ۔ اس کے جواب میں آپ کو کہا گیا کہ اگر آپ قبول کریں تو چند منصف مقرر کر کے چند متعارض حدیثیں آپ کے سامنے بغرض تطبیق و توفیق پیش کی جائیں گی ۔ اگر آپ اپنی علمی لیاقت سے تعارض دور کر کے دکھلا دیوہیں گے تو پچھپیں روپے آپ کو انعام ملیں گے اور آپ کی علمیت مسلم ٹھہر جائے گی اور اگر چپ رہیں تو آپ کی بے علمی ثابت ہوگی لیکن آپ چپ رہے۔ سو میں مکرر کہتا ہوں کہ ہر چندج مرکب کی وجہ سے آپ کو دعوی علم دین بہت ہے مگر آپ خوب یا درکھیں کہ جب تک ان تمام آزمائشوں میں آپ صادق نہ نکلیں تب تک یہ دعوی بے اصل و بے دلیل ہے۔ اور پھر یہ بھی یا درکھیں کہ ان آزمائشوں میں ہرگز آپ عزت کے ساتھ اپنا انجام نہیں دیکھیں گے ۔ یہ سزا اس کبر کی ہے کہ خدائے تعالیٰ ہر ایک متکبر کو دیتا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلِّ مُخْتَالٍ فَخُورٍے اور آپ کا وہ جوش جس کی وجہ سے شرطی طور پر ہے۔ لقمان : ١٩