ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 511
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۱۱ ازالہ اوہام حصہ دوم دوم ۔ قرآن شریف قطعی طور پر عیسی ابن مریم کی موت ثابت و ظاہر کر چکا ہے صحیح بخاری جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب کبھی گئی ہے۔ اس میں فلما توفیتنی کے معنی وفات ہی لکھے ہیں ۔ اسی وجہ سے امام بخاری اس آیت کو کتاب التفسیر میں لایا ہے۔ سوم ۔ قرآن کریم کئی آیتوں میں بتصریح فرما چکا ہے کہ جو شخص مر گیا پھر وہ دنیا میں کبھی نہیں آئے گا لیکن نبیوں کے ہم نام اس اُمت میں آئیں گے۔ چہارم ۔ قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرا یہ وحی رسالت مسدود ہے۔ اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔ پنجم ۔ یہ کہ احادیث صحیحہ بصراحت بیان کر رہی ہیں کہ آنے والا مسیح ابن مریم امتیوں کے رنگ میں آئے گا۔ چنانچہ اس کو امتی کر کے بیان بھی کیا گیا ہے جیسا کہ حدیث امامكم منکم سے ظاہر ہے اور نہ صرف بیان کیا گیا بلکہ جو کچھ اطاعت اور پیروی اُمت پر لازم ۷۲۲۶) ہے وہ سب اس کے لازم حال ٹھہرائی گئی۔ ششم ۔ یہ کہ بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے اصل مسیح ابن مریم کا اور حلیہ بتایا گیا ہے اور آنے والے مسیح ابن مریم کا اور حلیہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اب ان قرائن ستہ کے رو سے صریح اور صاف طور پر ثابت ہے کہ آنے والا مسیح ہرگز وہ مسیح نہیں ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی بلکہ اس کا مثیل ہے اور اس وقت اُس کے آنے کا وعدہ تھا کہ جب کروڑہا افراد مسلمانوں میں سے یہودیوں کے مثیل ہو جائیں گے تا خدائے تعالیٰ اس اُمت کی دو نو قسموں کی استعداد میں ظاہر کرے نہ یہ کہ اس اُمت میں صرف یہودیوں کی نجس صورت قبول کرنے کی استعداد ہو اور مسیح بنی اسرائیل میں سے آوے۔ بلا شبہ ایسی صورت میں اس مقدس اور روحانی معلم اور پاک نبی کی