ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 510
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۱۰ ازالہ اوہام حصہ دوم قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ کیا پہلے علماء میں یہ سمجھ اور فہم نہیں تھا جو تمہیں دیا گیا اور آپ ہی کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ جب مسیح ابن مریم آئے گا تو وہ ایسے ایسے استنباط قرآن سے کرے گا کہ جو علماء وقت کی نظر میں اجنبی معلوم ہوں گے اور اسی وجہ سے وہ آمادہ مخالفت ہو جائیں گے۔ دیکھو مجلد ثانی مکتوبات امام ربانی صفحہ ۱۰۷۔ اور کتاب آثار القیامۃ مولوی صدیق حسن صاحب مرحوم ۔ اب کیا ضرور نہ تھا کہ ایسا ہی ہوتا اور وہ قرائن جن سے ثابت ہوتا ہے کہ احادیث کا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ مسیح ابن مریم سے بنی اسرائیل صاحب انجیل مراد ہے یہ تفصیل ذیل ہیں۔ ۲۰ اول۔ یہی جو او پر لکھا گیا ہے کہ ایسا خیال قرآن کریم کی ان پیشگوئیوں کے مخالف ہے جن میں خلافت موسویہ اور خلافت محمدیہ کی ترقی اور تنزل کا سلسلہ معہ اُس کے تمام لوازم کے ایک ہی طرز پر واقع ہونا بیان فرمایا گیا ہے اور صریح بلند آواز سے بتلایا گیا ہے کہ اسلامی شریعت کے تنزل کے زمانہ کا تدارک ایسی طرز اور نسج سے اور اُسی رنگ کے مصلح سے کیا جائے گا جیسا کہ موسوی شریعت کے تنزل کے زمانہ کے وقت کیا گیا تھا یعنی اللہ جل شانہ کا قرآن کریم میں منشاء یہ ہے کہ اسی شریعت کے مصلح جو اس دین میں پیدا ہوں گے شریعت موسوی کے مصلحین سے متشابہ اور متماثل ہوں گے اور جو کچھ خدائے تعالیٰ نے موسوی شریعت کی ترقی اور تنزل کے زمانہ میں کارروائیاں کی تھیں وہی کارروائیاں اس اُمت کی ترقی اور منزل کے زمانہ میں کرے گا اور جو کچھ اس کی مشیت نے تنزل کے زمانہ میں یہودیوں پر کسل اور ضلالت اور تفرقہ وغیرہ کا اثر ڈالا تھا اور پھر اس کی اصلاح کے لئے ایک بردبار اور دقیقہ رس اور روح سے تائید یافتہ مصلح دیا تھا۔ یہی سنت اللہ اسلام کے تنزل کی حالت میں ظہور میں (271) آئے گی ۔ اب اگر اس منشاء کے مخالف اصل مسیح ابن مریم کو ہی دوبارہ زمین پر اتارا جائے تو قرآن شریف کی تعلیم سے صریح مخالفت ہے۔