ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 498
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۹۸ ازالہ اوہام حصہ دوم باقی رہ جائے گی اور پھر فرماتا ہے فَاغْرَيْنا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ یعنی ہم نے یہود اور نصاریٰ میں قیامت کے دن تک عداوت اور بغض ڈال دیا ہے۔ اس آیت سے بھی صاف طور پر ثابت ہے کہ یہودی قیامت کے دن تک رہیں گے کیونکہ اگر وہ پہلے ہی حضرت عیسی پر ایمان لے آئیں گے تو پھر سلسلہ عداوت اور بغض کا قیامت تک ۷۳۹ کیوں کر ممتد ہوگا۔ لہذا مانا پڑا کہ ایسا خیال کہ حضرت مسیح کے نزول کی یہ علامت ہے کہ تمام اہل کتاب اُس پر ایمان لے آویں گے صریح نص قرآن اور حدیث سے مخالف ہے۔ خلاصہ فیصلہ ہمارا دعویٰ جو الہام الہی کی رو سے پیدا ہوا اور قرآن کریم کی شہادتوں سے چمکا اور احادیث صحیحہ کی مسلسل تائیدوں سے ہر یک دیکھنے والی آنکھ کو نظر آنے لگا وہ یہ ہے جو حضرت مسیح عیسی بن مریم رسول اللہ جن پر انجیل نازل ہوئی تھی وہ اس عالم سفلی سے انتقال کر گئے اور اس جہانِ فانی کو چھوڑ کر جہان جاودانی کے لوگوں میں جا ملے ۔ اور اس جد عصری کے خواص اور لوازم کو ترک کر کے ان خواص اور لوازم سے متمتع ہو گئے جو صرف اُن لوگوں کو ملتے ہیں جو فوت ہو جاتے ہیں۔ اور ان لذات سے بہرہ یاب ہو گئے جو محض اُن لوگوں کو دی جاتی ہیں جو موت کے پل سے گزر کر محبوب حقیقی کو جا ملتے ہیں اور ۷۲۰) کچھ شک نہیں کہ جو شخص اس عالم کے لوگوں کو چھوڑتا ہے اور عالم ثانی کے لوگوں سے جاملتا ہے اور اس عالم کے لوازم اور خواص چھوڑتا ہے اور عالم ثانی کے لوازم اور خواص قبول کر لیتا ہے اور اس عالم کی لذات قطعاً چھوڑتا ہے اور عالم ثانی کے لذات پالیتا ہے اور اس عالم کے مؤثرات ارضی و سماوی چھوڑتا ہے اور عالم ثانی کی غیر متبدل زندگی حاصل کرتا ہے اور اس عالم سے بکلی گم اور نا پدید ہو جاتا ہے اور اُس عالم میں ظہور فرما ہوتا ہے المائدة : ۱۵