ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 495 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 495

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۹۵ ازالہ اوہام حصہ دوم اس کے گدھے کی بھی خبر دی ہے جو خشکی اور تری دونوں کو چیرتا ہوا دور دور ملکوں تک انہیں پہنچاتا ہے اور ان کے یک چشم ہونے سے بھی اطلاع بخشی ہے اور اُن کی بہشت اور دوزخ اور روٹیوں کے پہاڑ اور خزانوں سے بھی مطلع فرمایا ہے۔ تو پھر ان حدیثوں کے سوا جو دجال کے حق میں ہیں اور کون سی حدیثیں ہمارے پاس ہیں جو اس دعوی کی تائید میں ہم پیش کریں ۔ اور اگر ہم موجودہ حدیثوں کو اُن پر وارد نہ کریں بلکہ وہمی اور فرضی طور پر کوئی اور دجال اپنے دل میں تراش رکھیں جو کسی اور زمانہ میں ظاہر ہوگا تو پھر ان کے لئے حدیثیں کہاں سے لا دیں ۔ اور ظاہر ہے کہ موجود کو چھوڑ کر وہم اور خیال کی طرف دوڑ نا بلا شبہ حق پوشی ہے کیونکہ جو موجود ہو گیا ہے اور جس کو ہم نے بچشم خود دیکھ لیا ہے اور اس کے بے مثل فتنوں کو ۷۳۲ مشاہدہ کر لیا ہے اور تمام پیشگوئیوں کا اس کو مصداق بھی سمجھ لیا ہے۔ اگر پھر بھی ہم اس کو ان پیشگوئیوں کا حقیقی مورد نہ ٹھہر اویں تو گویا ہماری یہ مرضی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی پیشگوئی پوری ہو حالانکہ سلف صالح کا یہ طریق تھا کہ اس بات پر سخت حریص تھے کہ پیشگوئی پوری ہو جائے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کی نسبت کہ حرم کعبہ میں ایک مینڈھا ذبح کیا جائے گا وہ لوگ مینڈھے کے ذبح ہونے کے منتظر نہ رہے بلکہ جب حضرت عبد اللہ ابن زبیر شہید ہوئے تو انہوں نے یقینا سمجھ لیا کہ یہی مینڈھا ہے حالانکہ حدیث میں انسان کا نام نہیں وہاں تو صاف مینڈھا لکھا ہے اور اس پیشگوئی کے متعلق بھی جو بخاری اور مسلم میں درج ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے پہلے وہ فوت ہوگی جس کے لمبے ہاتھ ہوں گے انہوں نے زینب کی وفات کے وقت یقین کر لیا کہ پیشگوئی پوری ہوگئی حالانکہ یہ بات اجتماعی طور پر تسلیم ہو چکی تھی کہ سودہ کے لمبے ہاتھ ہیں وہی پہلے فوت ہوگی ۔ ان بزرگوں نے جب دیکھا کہ پیشگوئی کے الفاظ کو حقیقت پر حمل کرنے سے پیشگوئی ہی ہاتھ سے جاتی ہے تو لمبے ہاتھوں ۷۳۵) سے ایثار اور صدقہ کی صفت مراد لے لی لیکن ہمارے زمانہ کے علماء کو اس بات سے