ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 494 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 494

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۹۴ ازالہ اوہام حصہ دوم آباد کرتے جاتے ہیں اور جس ملک ویران پر قبضہ کرتے ہیں اس کو کہتے ہیں کہ تو اپنے خزانے باہر نکال۔ تب ہزار ہا وجوہ تحصیل مال کی اُسی ملک سے نکال لیتے ہیں۔ زمین کو آباد کر دیتے ہیں امن کو قائم کر دیتے ہیں لیکن وہ تمام خزائن انہیں کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں اور انہیں کے ملک کی طرف وہ تمام روپیہ کھنچا ہوا چلا جاتا ہے۔ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ مثلاً ملک ہند کے خزانے یورپ کی طرف حرکت کر رہے ہیں۔ یورپ کے لوگ آپ ہی ان خزائن کو نکالتے ہیں ۷۳۲ اور پھر اپنے ملک کی طرف روانہ کرتے ہیں ۔ غرض ان تمام احادیث پر عمیق غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانہ کے لئے یہ پیشگوئی فرمائی ہے اور انہی لوگوں کا نام دجال رکھا ہے اور قرآن کریم میں اگر چہ بتصریح کسی جگہ دجال کے نکلنے کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن کچھ شک نہیں کہ قرآن کریم نے دخان کا ذکر کر کے اسی کے ضمن میں دجال کو داخل کر دیا ہے اور پھر اس زمانہ کا بیان بھی قرآن میں ہے کہ جب دنیا میں دخان کے بعد نور اللہ پھیلے گا اور اس نوار فی زمانہ سے مراد وہی زمانہ ہے کہ جب مسیح موعود کے ظہور کے بعد پھر دنیا نیکی کی طرف رخ کرے گی ۔ کچھ شک نہیں کہ یہ زمانہ جو ہنوز دخانی زمانہ ہے سچائی کی حقیقت کو بہت دور چھوڑ گیا ہے اور دجالی ظلمت نے دلوں پر ایک سخت اثر ڈالا ہے۔ اور کروڑ ہا مخلوقات شیاطین الانس کے اغوا سے تو حید اور راستی اور ایمان سے باہر ہوگئی ہے۔ اب اگر فرض کیا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دجال کی جو عیسائی پادریوں کا گروہ ہے خبر نہیں دی جس کی نظیر دنیا کی ابتدا سے ۷۳۳) آج تک نہیں پائی جاتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کشفیہ پر سخت اعتراض ہوگا کہ ایسا بڑا فتنہ جو اُن کی اُمت کے لئے درپیش تھا جس میں نہ ستر ہزار بلکہ ستر لاکھ سے زیادہ متفرق ملکوں میں لوگ دین اسلام سے انحراف کر چکے ہیں اس کی آنحضرت نے خبر نہیں دی لیکن اگر جیسا کہ شرط انصاف ہے ہم تسلیم کر لیں کہ آنجناب نے اس دجال کی خبر دی ہے۔ اور