ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 476 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 476

روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ دوم سو وہ یہی ہے جو پیدا ہو گیا۔ فالحمد لله على ذلك۔ از انجملہ ایک یہ ہے کہ مسیح کے نزول کی علامت یہ کھی ہے کہ دوفرشتوں کے پروں پر ۱۹۷ اس نے اپنی ہتھیلیاں رکھی ہوئی ہوں گی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کا دایاں اور بایاں ہاتھ جو تحصیل علوم عقلی اور انوار باطنی کا ذریعہ ہے آسمانی موکلوں کے سہارے پر ہوگا اور وہ مکتب اور کتابوں اور مشائخ سے نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ سے علم لدنی پائے گا اور اس کی ضروریات زندگی کا بھی خدا ہی متولی اور متکفل ہو گا جیسا کہ عرصہ دس سال سے براہین احمدیہ میں اس عاجز کی نسبت یہ الہام چھپ چکا ہے کہ ایک باعيننا سمّيتك المتوكل و علمنه من لدنا علما یعنی تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ہم نے تیرا نام متوکل رکھا اور اپنی طرف سے علم سکھلایا۔ یادر ہے کہ اجنحہ سے مراد جو حدیث میں ہے صفات اور قومی ملکیہ ہیں جیسا کہ صاحب لمعات شارح مشکوۃ نے حدیث مندرجہ ذیل کی شرح میں یہی معنے لکھے ہیں۔ عن زید ابن ثابت قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم طوبى للشام قلنا لای ذلک یا رسول الله قال لان ملائكة الرحمن باسطة اجنحتها عليها رواه ۱۹۸) احمد والترمذی ۔ یہ بات بہت سی حدیثوں اور قرآن کریم سے ثابت ہے کہ جو شخص کامل انقطاع اور کامل تو کل کا مرتبہ پیدا کر لیتا ہے تو فرشتے اس کے خادم کئے جاتے ہیں اور ہر یک فرشتہ اپنے منصب کے موافق اس کی خدمت کرتا ہے وقال الله تعالى إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ التي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ۔ ایسا ہی خدائے تعالیٰ فرماتا ہے وحملهم في البر والبَحْرِ یعنی اُٹھایا ہم نے اُن کو جنگلوں میں اور دریاؤں میں ۔ اب کیا اس کے یہ معنے کرنے چاہئیں کہ حقیقت میں خدائے تعالیٰ اپنی گود میں لے کر اُٹھائے پھرا۔ سو اسی طرح ملائک کے پروں پر ہاتھ رکھنا حقیقت پر محمول نہیں ۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ عاجز ایسی علامت متذکرہ بالا کے ساتھ آیا ہے اور اجنحه ملائکہ پر اس عاجز کے دونوں ہاتھ ہیں اور غیبی قوتوں کے سہارے سے علوم لدنی کھل رہے ہیں۔ اگر کوئی ا حم السجدة : ٣١ ے بنی اسرائیل اے