ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 475
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۷۵ ازالہ اوہام حصہ دوم اور ظاہر ہے کہ آدم کے ظہور کا وقت روز ششم قریب عصر ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ اور توریت سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے ہر ایک منصف کو ماننا پڑے گا کہ وہ آدم اور ابن مریم یہی (۶۹۵ عاجز ہے کیونکہ اول تو ایسا دعوئی اس عاجز سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا اور اس عاجز کا یہ دعوی دس برس سے شائع ہو رہا ہے اور براہین احمدیہ میں مدت سے یہ الہام چھپ چکا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کی نسبت فرمایا ہے کہ یہ آدم ہے اور یہ خدائے تعالی کی ایک بار یک اور کامل حکمت ہے کہ اس طوفان نزاع کے وقت سے دس برس پہلے ہی اُس نے اس عاجز کا نام آدم اور عیسی رکھ دیا تا غور کرنے والوں کے لئے نشان ہو اور تا اُس تکلف اور تاویل کا خیال دور ہو جاوے جو خام طبع لوگوں کے دلوں میں بسا ہوا ہے۔ سو اس حکیم مطلق نے اس عاجز کا نام آدم اور خلیفتہ اللہ رکھ کر اور انی جاعل فی الارض خلیفہ کی کھلے کھلے طور پر براہین احمدیہ میں بشارت دے کر لوگوں کو توجہ دلائی کہ تا اس خلیفتہ اللہ آدم کی اطاعت کریں اور اطاعت کرنے والی جماعت سے باہر نہ رہیں اور ابلیس کی طرح ٹھو کر نہ کھاویں اور من شَدَّ هد في النار کی تہدید سے بچیں اور اپنے الہا موں کی حقیقت کو سمجھیں لیکن انہوں نے کورا نہ لکیر کا نام جماعت رکھا اور حقیقی جماعت جو بنظر ظاہر بیناں ایک فسئه قلیلہ اور قليلاً ما هم میں داخل ہے اس سے منہ پھیر لیا اور اس عاجز کو جو خدائے تعالیٰ نے آدم مقرر کر کے بھیجا اس کا یہ نشان رکھا کہ الف ششم میں جو قائم مقام روز ششم ہے یعنی آخری حصہ الف میں جو وقت عصر سے مشابہ ہے اس عاجز کو پیدا کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ۔ اور ضرور تھا کہ وہ ابن مریم جس کا انجیل اور فرقان میں آدم بھی نام رکھا گیا ہے وہ آدم کی طرز پر الف ششم کے آخر میں ظہور کرتا ۔ سو آدم اول کی پیدائش سے الف ششم میں ظاہر ہونے والا یہی عاجز ہے۔ بہت سی حدیثوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ بنی آدم کی عمر سات ہزار برس ہے اور آخری آدم پہلے آدم کی طرز ظہور پر الف ششم کے آخر میں جو روز ششم کے حکم میں ہے پیدا ہونے والا ہے الحج : ۴۸