ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 457
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۵۷ ازالہ اوہام حصہ دوم اے حضرات مولوی صاحبان ! آپ لوگوں کا یہ خیال کہ ہم مومن ہیں اور یہ شخص کافر اور ہم صادق ہیں اور یہ شخص کا ذب اور ہم متبع اسلام ہیں اور یہ شخص ملحد اور ہم مقبول البہی ہیں اور یہ شخص مردود اور ہم جنتی ہیں اور یہ شخص جہنمی ۔ اگر چہ غور کرنے والوں کی نظر میں قرآن کریم (1) کی رو سے بخوبی فیصلہ پاچکا ہے اور اس رسالہ کے پڑھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون لیکن ایک اور بھی طریق فیصلہ ہے جس کی رو سے صادقوں اور کاذبوں اور مقبولوں اور مردودوں میں فرق ہو سکتا ہے۔ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر مقبول اور مردود اپنی اپنی جگہ پر خدائے تعالیٰ سے کوئی آسمانی مدد چاہیں تو وہ مقبول کی ضرور مدد کرتا ہے اور کسی ایسے امر سے جو انسان کی طاقت سے بالاتر ہے اس مقبول کی قبولیت ظاہر کر دیتا ہے ۔ سو چونکہ آپ لوگ اہل حق ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور آپ کی جماعت میں وہ لوگ بھی ہیں جو ملہم ہونے کے مدعی ہیں جیسے مولوی محی الدین وعبد الرحمن صاحب لکھو والے اور میاں عبد الحق صاحب غزنوی جو اس عاجز کو کافر اور جہنمی ٹھہراتے ہیں لہذا آپ پر واجب ہے کہ اس آسمانی ذریعہ سے بھی دیکھ لیں کہ آسمان پر مقبول کس کا نام ہے اور مردود کس کا نام