ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 440 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 440

روحانی خزائن جلد ۳ ام م ازالہ اوہام حصہ دوم الہام ولایت یا الهام عامه مومنین بجز موافقت و مطابقت قرآن کریم کے حجت بھی نہیں تو ۲۳۰ پھر ناظرین کے لئے غور کا مقام ہے کہ کیوں کر اور کن علامات بینہ سے میاں عبد الحق صاحب اور میاں محی الدین صاحب نے اپنے الہامات کو رحمانی الہامات سمجھ لیا ہے ۔ اُن کے الہامات کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص عیسی بن مریم کی وفات کا قائل ہو اور دنیا میں انہیں کا دوبارہ آنا تسلیم نہ کرے وہ کافر ہے لیکن ناظرین اب اس رسالہ کو پڑھ کر بطور حق الیقین سمجھ جائیں گے که در حقیقت واقعی امر جو قرآن شریف سے ظاہر ہو رہا ہے یہی ہے کہ سچ سچ حضرت مسیح ابن مریم فوت ہی ہو گئے اور فوت شدہ جماعت میں صد ہا سال سے داخل ہیں۔ سو بڑی اور بھاری نشانی میاں محی الدین اور میاں عبد الحق کے شیطانی الہام کی یہ نکل آئی کہ اُن کے اس خیال کا قرآن شریف مکذب ہے اور شمشیر برہنہ لے کر مقابلہ کر رہا ہے۔ اب اس سے یقینی طور پر ثابت ہو گیا کہ ابلیس مکار نے کسی اندرونی مناسبت کی وجہ سے ان دونوں صاحبوں کو استخارہ کے وقت جا پکڑا اور قرآن کریم کے منشاء کے برخلاف اُن کو تعلیم دی۔ بھلا اگر اِن صاحبوں کے یہ الہامات بچے ہیں تو اب قرآن کریم کی رو سے مسیح ابن مریم کا زندہ ہونا ثابت (۱۳۱) کر کے دکھلا دیں اور ہم دس یا نہیں آیتوں کا مطالبہ نہیں کرتے صرف ایک آیت ہی زندہ ہونے کے بارے میں پیش کریں۔ اور جس فرشتہ نے اس عاجز کے جہنمی یا کافر ہونے کے بارے میں جھٹ پٹ ان کے کانوں تک دو تین فقرے پہنچا دئے تھے اب اُسی سے درخواست کریں کہ ہماری مدد کر ۔ اور کچھ شک نہیں کہ اگر وہ الہام خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہے تو کم سے کم تھیں آیت حضرت عیسی کے زندہ ہونے کے بارے میں فی الفور القاء ہو جائیں گی کیونکہ ہم نے بھی تو تین آیت اُن کے مرنے کے ثبوت میں پیش کی ہیں لیکن یا درکھنا چاہیے کہ یہ لوگ ایک بھی آیت پیش نہیں کر سکیں گے کیونکہ اُن کے الہامات شیطانی ہیں اور حزب شیطان ہمیشہ مغلوب ہے ۔ وہ بے چارہ لعنتوں کا مارا خود کمزور اور ضعیف ہے