ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 439
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۳۹ ازالہ اوہام حصہ دوم کہ یہ شخص ایسا ملحد اور کافر ہے کہ ہر گز ہدایت پذیر نہیں ہوگا ۔ اور ظاہر ہے کہ جس کا فر کا مال کار کفر ہی ہو وہ بھی جہنمی ہی ہوتا ہے۔ غرض ان دونوں صاحبوں نے کہ خدا انہیں بہشت نصیب کرے اس عاجز کی نسبت جہنم اور کفر کا فتویٰ دے دیا اور بڑے زور سے اپنے الہامات کو شائع کر دیا۔ ہم اس جگہ ان صاحبوں کے الہامات کی نسبت کچھ زیادہ لکھنا ضروری نہیں سمجھتے ۔ صرف اس قدر تحریر کرنا کافی ہے کہ الہام رحمانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی۔ اور جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دے کر کسی بات کے استکشاف کے لئے بطور استخارہ و استخبارہ وغیرہ کے توجہ کرتا ہے خاص کر اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی بُر ایا بھلا کلمہ بطور الہام مجھے معلوم ہو جائے تو شیطان اُس وقت اُس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور در اصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔ یہ دخل کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے مگر وہ بلا توقف نکالا جاتا ہے۔ اسی کی طرف اللہ جل شانۂ قرآن کریم میں اشارہ فرماتا ہے ﴿۶۲۹ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِي إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَنُ فِي أَمْنِيَّتِهِ الخل ایسا ہی انجیل میں بھی لکھا ہے کہ شیطان اپنی شکل نوری فرشتوں کے ساتھ بدل کر بعض لوگوں کے پاس آجاتا ہے۔ دیکھو خط دوم قرنتھیاں باب ۱۱ آیت ۱۴ ۔ اور مجموعہ توریت میں سے سلاطین اول باب بائیس آیت انہیں میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کے وقت میں چار سونبی نے اس کی فتح کے بارہ میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی بلکہ وہ اُسی میدان میں مر گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ دراصل وہ الہام ایک نا پاک روح کی طرف سے تھا نوری فرشتہ کی طرف سے نہیں تھا اور ان نبیوں نے دھوکا کھا کر ربانی سمجھ لیا تھا۔ اب خیال کرنا چاہیے کہ جس حالت میں قرآن کریم کی رو سے الہام اور وحی میں دخل شیطان ممکن ہے اور پہلی کتابیں توریت اور انجیل اس دخل کی مصدق ہیں اور اسی بناء پر الحج ۵۳