ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 396
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۹۶ ازالہ اوہام حصہ دوم ۵۵۰ آسمان پر ایسا ہے کہ اُس میں خا کی جسم کے لوازم ہرگز نہیں پائے جاتے ۔ وہ بڑھا نہیں ہوتا اُس پر زمانہ اثر نہیں کرتا۔ وہ اناج اور پانی کا محتاج نہیں ۔ سو آپ نے تو ایک طور سے مان بھی لیا کہ وہ اور رنگ اور شان کا جسم ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ معراج کی رات میں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں پر نبیوں کو دیکھا تو کیا بالخصوص مسیح کو ہی جسم کے سمیت دیکھا اور دوسروں کی فقط روحیں دیکھیں بلکہ ظاہر ہے کہ سب کو روح اور جسم دونوں کے ساتھ دیکھا اور سب کا جسمانی حلیہ بھی بیان کیا اور مسیح کا وہ حلیہ بیان کیا جو آنے والے مسیح سے بالکل مخالف تھا۔ پس کیا یہ قوی دلیل اس بات پر نہیں ہے کہ مسیح کو اس کے مرنے کے بعد اُسی رنگ اور طرز کا جسم ملا جو بیٹی نبی اور اور لیس اور یوسف اور حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم کو ملا تھا۔ کیا کوئی نرالی بات مسیح میں دیکھی گئی جو اوروں میں نہیں تھی ۔ اب جبکہ ایسی وضاحت سے مسیح کا وفات پا جانا اور پھر دوسرے نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی طرح زندہ ہو کر آسمان کی طرف اُٹھائے جانا ثابت ہوتا ہے تو کیوں ناحق مسیح کے سفلی اور کثیف جسم اور نا پائدار حیات کے لئے ضد کی جاتی ہے اور سب کے لئے ایک موت اور (201) اس کے لئے دو موتیں روا رکھی جاتی ہیں۔ قرآن شریف میں اور لین نبی کے حق میں ہے وَرَفَعْتُهُ مَكَانًا عَلِيًّا اور اس کے ساتھ تو ھی کا کہیں لفظ نہیں تا ہم علماء اور لین کی وفات کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس جہان سے ایسا اٹھایا گیا کہ پھر نہیں آئے گا یعنی مرگیا کیونکہ بغیر مرنے کے کوئی اس جہان سے ہمیشہ کے لئے رخصت نہیں ہو سکتا۔ وجہ یہ کہ اس دنیا سے نکلنے اور بہشت میں داخل ہونے کا موت ہی دروازہ ہے و كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۔ اور اگر انہیں کہا جائے کہ کیا اور میں آسمان پر مر گیا یا پھر آ کر مرے گا یا آسمان پر ہی اس کی روح قبض کی جائے گی تو ادرین کے دوبارہ دنیا میں آنے سے صاف انکار کرتے ہیں۔ اور چونکہ دخول جنت سے پہلے موت ایک لازمی امر ہے لہذا ادریس کا فوت ہو جانا مان لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مریم ۵۸ ۲ العنكبوت: ۵۸