ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 390
روحانی خزائن جلد۳ ۳۹۰ ازالہ اوہام حصہ دوم یہی تو ہے کہ ہمیں اے ہمارے خدا نبیوں اور رسولوں کا مثیل بنا۔ اور پھر حضرت یحیی کے حق میں فرماتا ہے لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا لے یعنی بیٹی سے پہلے ہم نے کوئی اس کا مثیل دنیا میں نہیں بھیجا جس کو باعتبار ان صفات کے یہی کہا جائے یہ آیت ہماری تصدیق بیان کے لئے اشارۃ النص ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اس جگہ آیت موصوفہ میں قبل کی شرط لگائی بعد کی نہیں لگائی تا معلوم ہو کہ بعد میں اسرائیلی نبیوں کے ہم ناموں کے آنے کا دروازہ کھلا ہے جن کا نام خدائے تعالیٰ کے نزدیک وہی ہو گا جو ان نبیوں کا نام ہو گا جن کے وہ مثیل ہیں یعنی جو مثیل موسیٰ ہے اس کا نام موسیٰ ہوگا اور جو مثیل عیسی ہے اس کا نام عیسی یا ابن مریم ہوگا۔ اور خدائے تعالیٰ نے اس آیت میں رسمی کہا مثیل نہیں کہا تا معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے ۵۴۰ کہ جو شخص کسی اسرائیلی نبی کا مثیل بن کر آئے گا وہ مثیل کے نام سے نہیں پکارا جائے گا بوجہ انطباق کی اسی نام سے پکارا جائے گا جس نبی کا وہ مثیل بن کر آئے گا۔ اور مسیح ابن مریم کی وفات کے بارہ میں اگر خدائے تعالیٰ قرآن شریف میں کسی ایسے لفظ کو استعمال کرتا جس کو اس نے مختلف معنوں میں استعمال کیا ہوتا تو کسی خائن کو خیانت کرنے کی گنجائش ہوتی ۔ سو خیانت پیشہ لوگوں کا خدا تعالیٰ نے ایسا بندو بست کیا کہ توفی کے لفظ کو جو حضرت عیسی کی وفات کے لئے استعمال کیا گیا تھا چھپیں جگہ پر ایک ہی معنی پر استعمال کیا اور اس کو ایک اصطلاحی لفظ بنا کر ہر یک جگہ میں اس کے یہ معنے لئے ہیں کہ روح کو قبض کر لینا اور جسم کو بے کار چھوڑ دینا۔ تا یہ لفظ اس بات پر دلالت کرے کہ روح ایک باقی رہنے والی چیز ہے جو بعد موت اور ایسا ہی حالت خواب میں بھی خدائے تعالیٰ کے قبضہ میں آجاتی ہے اور جسم پر فنا طاری ہوتی ہے مگر روح پر نہیں ۔ اور چونکہ یہی معنی بالالتزام ہر یک محل میں جہاں تو فی کا لفظ آیا ہے لئے گئے اور ان سے خروج نہیں کیا گیا اس لئے یہ معنے نصوص صریحہ بینہ ظاہرہ قرآن کریم میں سے ٹھہر گئے جن سے انحراف کرنا الحاد ہوگا ۵۳۱) کیونکہ یہ مسلّم ہے کہ النصوص يحمل على ظواهرها - پس قرآن کریم نے توفی مریم ۸