ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 389
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۸۹ ازالہ اوہام حصہ دوم نصوص کے مطابق ہوں تو پھر گویا وہ یقین نور علی نور ہے جس سے عمداً انحراف ایک قسم کی بے ایمانی میں داخل ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ جو حدیثیں اس اعلیٰ درجہ کے ثبوت کے بر خلاف ہوں گی تو اگر ہم اُن کو غلط نہ کہیں اور نہ اُن کا موضوع نام رکھیں تو زیادہ سے زیادہ نرمی ہماری ان حدیثوں کی نسبت یہ ہوگی کہ ہم اُن کی تاویل کریں۔ ورنہ حق ہمارا تو یہی ہے کہ اُن کو قطعی طور پر ساقط الاعتبار سمجھیں۔ بعض یہ وہم پیش کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں موت مسیح کے بارہ میں صرف تو فی کا لفظ موجود ہے مگر لغت میں یہ لفظ کئی معنوں پر آیا ہے۔ سواس ۵۳۸ و ہم کا جواب یہ ہے کہ کلام تو اس بات میں ہے کہ یہ لفظ قرآن کریم میں کئی معنوں پر آیا ہے یا ایک معنی پر ۔ در اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے بعض الفاظ لغت سے لے کر اصطلاحی طور پر ایک معنی کے لئے خاص کر دئے ہیں جیسے صوم ، صلوٰۃ ، رحمانیت، رحیمیت ، توفی ۔ اور ایسا ہی اللہ کا لفظ ۔ اور کئی اور الفاظ ۔ سو اصطلاحی امر میں لغت کی طرف رجوع کرنا حماقت ہے۔ قرآن شریف کی قرآن شریف سے ہی تفسیر کرو اور دیکھو کہ وہ ایک ہی معنی کا التزام رکھتا ہے یا متفرق معنی لیتا ہے۔ اور اقوال سلف و خلف در حقیقت کوئی مستقل حجت نہیں اور اُن کے اختلاف کی حالت میں وہ گروہ حق پر ہو گا جن کی رائے قرآن کریم کے مطابق ہے۔ اگر یہ اقوال رطب و یابس جو تفسیروں میں لکھے ہیں کچھ استحکام رکھتے تو ان تفسیروں میں اقوال متضادہ کیوں درج ہوتے ۔ اگر ماخذا جماع کا یہی اقوال متضادہ ہیں تو حقیقت اجماع معلوم شد۔ اب ہم اس وصیت میں یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ قرآن شریف اپنے زبر دست ثبوتوں کے ساتھ ہمارے دعوے کا مصدق اور ہمارے مخالفین کے اوہام باطلہ کی بیخ کنی کر رہا (۵۳۹ ہے اور وہ گذشتہ نبیوں کے واپس دنیا میں آنے کا دروازہ بند کرتا ہے ۔ اور بنی اسرائیل کے مثیلوں کے آنے کا دروازہ کھولتا ہے۔ اُسی نے یہ دعا تعلیم فرمائی ہے ۔ اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اس دعا کا ماحصل کیا ہے