ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 369 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 369

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۶۹ ازالہ اوہام حصہ دوم اور جس قوم کو چاہے خشک سالی سے ہلاک کر دے۔ اور انہیں دنوں میں قومیں یا جوج اور ماجوج کی ترقی پر ہوں گی اور زمین کو دباتی چلی جاویں گی اور ہر یک بلند زمین سے دوڑے گی اور دجال ایک جسیم آدمی سرخ رنگ ہو گا۔ یہ تمام علامتیں اب کہاں پائی جاتی ہیں۔ ان شبہات کا ازالہ اس طرح پر ہے کہ یک چشم سے مراد در حقیقت یک چشم نہیں۔ اللہ جل شانۂ قرآن کریم میں فرماتا ہے مَنْ كَانَ في هذة أعلى فَهُوَ فِى الْآخِرَةِ أَعْمى ل کیا اس جگہ نا بینائی سے مراد جسمانی نابینائی ہے بلکہ روحانی نا بینائی مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ دجال میں دینی عقل نہیں ہوگی اور گودنیا کی عقل اس میں تیز ہوگی اور ایسی حکمتیں ایجاد کرے گا اور ایسے عجیب کام دکھلائے گا کہ گویا خدائی کا دعویٰ کر رہا ہے لیکن دین کی آنکھ بالکل نہیں ہوگی۔ جیسے آج کل یورپ اور امریکہ کے لوگوں کا حال ہے کہ دنیا کی تدبیروں کا انہوں نے خاتمہ کر دیا ہے۔ اور حدیث میں جو گانی کا لفظ موجود ہے وہ بھی دلالت کر رہا ہے جو یہ ایک کشفی امر اور لائق تعبیر ہے جیسا کہ ملا علی قاری نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اور یا جوج ماجوج کی نسبت تو فیصلہ ہو چکا ہے جو یہ دنیا کی دو بلندا قبال قومیں ہیں جن میں سے (۵۰۲) ایک انگریز اور دوسرے روس ہیں۔ یہ دونوں قو میں بلندی سے نیچے کی طرف حملہ کر رہی ہیں یعنی اپنی خداداد طاقتوں کے ساتھ فتحیاب ہوتی جاتی ہیں۔ مسلمانوں کی بد چلنیوں نے مسلمانوں کو نیچے گرا دیا اور اُن کی تہذیب اور متانت شعاری اور ہمت اور اولوالعزمی اور معاشرت کے اعلیٰ اصولوں نے بحکم و مصلحت قادر مطلق ان کو اقبال دے دیا۔ ان دونوں قوموں کا بائبل میں بھی ذکر ہے۔ اور دابتہ الارض سے مراد کوئی لا یعقل جانور نہیں بلکہ بقول حضرت علی رضی اللہ عنہ آدمی کا نام ہی دابتہ الارض ہے۔ اور اس جگہ لفظ دابتہ الارض سے ایک ایسا طائفہ انسانوں کا ☆ یلا نوٹ : آثار القیامہ میں لکھا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے پوچھا گیا کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ د آبتہ الارض آپ ہی ہیں تب آپ نے جواب دیا کہ دابتہ الارض میں تو کچھ چارپایوں اور کچھ پرندوں کی بھی مشابہت ہوگی۔ مجھ میں وہ کہاں ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ دابتہ الارض اسم جنس ہے جس سے ایک طائفہ مراد ہے۔ منہ بنی اسرائیل :۷۳