ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 361
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۶۱ ازالہ اوہام حصہ دوم آخری زمانہ میں اس کی جگہ لی اور گر جا سے نکل کر مشارق و مغارب میں پھیل گیا اس تقریر سے مثیلیت کا محاورہ اور بھی ثابت ہوتا ہے۔ جو دونوں طور کے مسیحوں طیب و خبیث میں دائر وسائر (۴۸۶ ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ حدیثوں میں تو صرف اتنا لفظ آیا ہے کہ مسیح ابن مریم اُترے گا اور د جال خروج کرے گا پھر ان دونوں کے ساتھ مثیل کا لفظ کیوں ملایا جاتا ہے۔ کیا یہ الحاد نہیں ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بعد اس کے کہ ہم نصوص قطعیہ بینہ سے ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم جن پر انجیل نازل ہوئی تھی وفات پاچکے ہیں اور ایسا ہی دجال بھی فوت ہو چکا ۔ اور اُن کے زندہ ہونے کا کوئی ذکر قرآن کریم اور احادیث میں موجود نہیں بلکہ آیات بینہ اُن کے دنیا میں واپس آنے سے سخت انکار کرتی ہیں۔ تو اس صورت میں اگر ہم آنے والے مسیح اور دجال سے اُن کے مثیل مراد نہ لیں تو اور کیا کریں۔ ہاں اگر حدیثوں میں یہ لفظ وارد ہوتے کہ وہ مسیح ابن مریم جو فوت ہو چکا ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی اور وہ دجال جو جزیرہ میں مقید تھا جس کے ساتھ جساسہ تھے وہی دونوں زندہ ہو کر آخری زمانہ میں آجائیں گے تو پھر تاویل کی گنجائش نہ ہوتی مگر اب تاویل نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے اور چونکہ بحکم علماء امتى كانبیاء بنی اسرائیل ابن مریم کے نام پر کوئی آنا چاہیے تھا اور آنا بھی وہ چاہیے تھا جو درحقیقت اُمتی ہو نہ کہ حقیقی طور پر نبی ۔ لہذا یہ ضروری تھا کہ ابن مریم کی جگہ کوئی ایسا اُمتی ظاہر ہو جو خدائے تعالیٰ کے نزدیک ابن مریم کے رنگ میں ہے۔ سو خدائے تعالیٰ نے مسیح ابن مریم کا مثیل عین وقت میں بھیج کر اُسی مثیل کی معرفت مسیح ابن مریم کا فی الواقعہ فوت ہو جانا ظاہر کر دیا اور سب دلائل اس کے کھول (۴۸۷) دئے ۔ اگر خدانخواستہ سچ سچ فرقان کریم میں لکھا ہوتا کہ میچ بر خلاف اس سنت اللہ کے جو تمام بنی آدم کے لئے جاری ہے زندہ آسمان کی طرف اُٹھایا گیا اور قیامت کے قریب تک زندہ ہی رہے گا تو عیسائیوں کو بڑے بڑے سامان بہکانے کے ہاتھ آجاتے ۔ سو بہت ہی خوب ہوا کہ عیسائیوں کا خدا فوت ہو گیا اور یہ حملہ ایک برچھی کے حملہ سے