ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 360
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۶۰ ازالہ اوہام حصہ دوم ایسے اُس کے آگے جھکیں جیسے خدائے تعالیٰ کے آگے جھکنا چاہیے اور خدائے تعالیٰ کی فرمانبردای پر چڑتا ہے اور اس کے احکام کو ذلیل اور خوار سمجھتا ہے اور اپنے احکام کو قابل عزت خیال کرتا ہے اور اپنی اطاعت کو خدائے تعالیٰ کی اطاعت پر مقدم رکھنا چاہتا ہے وہ حقیقت میں خدائی کا دعوی کر رہا ہے۔ اگر چہ قال سے نہیں مگر حال سے ضرور یہ دعویٰ اُس سے صادر ہوتا ہے بلکہ قال سے بھی دعویٰ کرتا ہے کیونکہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کو خداوند خداوند کہیں ۔ سواسی قسم کا دجال کا دعویٰ معلوم ہوتا ہے۔ اس تمام تقریر سے معلوم ہوا کہ مسیح ابن مریم کے مثیل کی طرح دجال کا بھی مثیل ہی آنے والا ہے یعنی ایسا گروہ جو باعتبار اپنی سیرت و خاصیت کے پہلے دجال کا ہم رنگ ہو لیکن اس طرز تقریر کے اختیار کرنے میں کہ مثیل مسیح اترے گا اور مثیل دجال خروج کرے گا یہ حکمت ہے تا ظاہر کیا جائے کہ دجال کا آنا بطور بلا و ابتلا کے ہوگا اور مسیح کا آنا بطور ایسی نعمت کے جو (۳۸۵ بارادة خاص الہی مومنوں کی نصرت کے لئے نازل ہوتی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ہے کہ ہم نے تمہارے لئے لوہا اتارا اور تمہارے لئے مویشی اتارے یعنی تمہارے فائدہ کے لئے بطور رحمت یہ چیزیں پیدا کیں۔ اور یہ بھی ہے کہ جو چیز زمین سے نکلتی ہے وہ ظلمت اور کثافت رکھتی ہے اور جو اوپر سے آتی ہے اس کے ساتھ نور و برکت ہوتی ہے اور نیز او پر سے آنے والی نیچے والی پر غالب ہوتی ہے۔ غرض جو شخص آسمانی برکتیں اور آسمانی نور ساتھ رکھتا ہے اُس کے آنے کے لئے نزول کا لفظ مناسب حال ہے اور جس کے وجود میں زمینی ظلمت اور خبث اور کدورت بھری ہوئی ہے اس کے ظہور کے لئے خروج کا لفظ مناسبت رکھتا ہے کیونکہ نورانی چیز میں آسمان سے ہی نازل ہوتی ہیں جو ظلمت پر فتح پاتی ہیں۔ اب اس تحقیق سے ظاہر ہو گیا کہ جیسے مثیل مسیح کو مسیح ابن مریم کہا گیا اس امر کو نظر میں رکھ کر کہ اس نے مسیح ابن مریم کی روحانیت کو لیا اور مسیح کے وجود کو باطنی طور پر قائم کیا۔ ایسا ہی وہ دجال جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فوت ہو چکا ہے اس کی ظل اور مثال نے اس