ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 358 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 358

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۵۸ ازالہ اوہام حصہ دوم کہ آخری زمانہ میں دجال تولد کے طور پر کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوگا بلکہ بالا تفاق سلف وخلف یہی کہتے آئے ہیں کہ دجال معہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھا اور پھر آخری زمانہ میں بڑی قوت کے ساتھ خروج کرے گا۔ اور اب تک وہ زندہ کسی جزیرہ میں موجود ہے۔ مگر یہ خیال کہ اب تک وہ زندہ ہے ہر گز صحیح نہیں ہے۔ مسلم کی دو حدیثیں (۴۸۱ مفصلہ ذیل اس خیال کی بکلی استیصال کرتی ہیں اور وہ یہ ہیں:۔ ( 1 ) عن جابر قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم قبل ان يموت بشهر تسئلوني عن الساعة وانما علمها عند الله واقسم بالله ماعلى الارض من نفس منفوسة ياتي عليها مائة سنة وهي حية يومئذ رواہ مسلم یعنی روایت ہے جابر سے کہ کہا سنا میں نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے مہینہ بھر پہلے اپنی وفات سے جو تکمیل مقاصد دین اور اظہار بقایا اسرار کا وقت تھا کہ تم مجھ سے پوچھتے ہو کہ قیامت کب آئے گی اور بجز خدائے تعالیٰ کے کسی کو اس کا علم نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں کہ روئے زمین پر کوئی ایسا نفس نہیں جو پیدا ہو گیا ہو اور موجود ہو اور پھر آج سے سو برس اس پر گذرے اور وہ زندہ رہے۔ (۲) پھر دوسری حدیث صحیح مسلم کی یہ ہے و عن ابي سعيد عن النبي صلى الله | عـلـيـه وسـلـم لايـاتـي مائة سنة وعلى الارض نفس منفوسة رواه مسلم یعنی ابوسعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں آوے گی سو برس اس حال میں کہ زمین پر کوئی شخص بھی آج کے لوگوں میں سے زندہ موجود ہو۔ (۳۸۲) اب ان دونوں حدیثوں کی رو سے جن میں سے ایک میں ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم بھی کھائی ہے اگر ہم تکلفات سے تاویلیں نہ کریں تو صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جساسہ والا دجال بھی ابن صیاد کی طرح فوت ہو گیا ہے۔ اسی کی نسبت علماء کا خیال ہے کہ آخری زمانہ میں نکلے گا اور حال یہ ہے کہ اگر اس کو آج تک زندہ فرض کیا جائے لله بحوالہ مشکواة المصابيح كتاب الفتن باب قرب الساعة - (ناشر)