ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 357
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۵۷ ازالہ اوہام حصہ دوم ثابت نہیں تو خواہ نخواہ ایک مسلمان کے پیچھے پڑنا اور اس کو دجال دجال کر کے پکارنا اور پھر ۴۷۹) اس کی نسبت یہ یقین رکھنا کہ وہی ابن صیاد یہودی الاصل آخری زمانہ میں پھر کفر کا جامہ پہن کر اور خدائی کا دعوی کر کے خروج کرے گا۔ میرے نزدیک بالکل نامناسب اور ایک مسلمان بھائی کی ناحق کی غیبت اور بدگوئی ہے جو آیت کریمہ لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِه علم کے تحت میں داخل ہے۔ علاوہ اس کے ابن صیاد سے اس کی کفر کی حالت میں بھی کوئی ایسا کام فتنہ اور شرارت کا صادر نہیں ہوا۔ جس سے وہ اپنے وقت میں فتنہ انگیزی میں بے نظیر سمجھا گیا ہو۔ پھر جب اس کے دل میں لا الہ الا اللہ کا نور داخل ہو گیا اور تصدیق رسالت نبوی سے اس کا سینہ منور کیا گیا تو پھر شک کرنے کی کوئی وجہ بھی باقی نہ رہی۔ بے شک وہ حدیثیں نہایت حیرت انگیز ہیں جن میں یقین کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ مسیح دجال یہی ہے۔ اور اب ہم اُن کی کوئی تاویل نہیں کر سکتے بجز اس کے کہ یہ کہیں کہ جو آخری زمانہ میں دجال پیدا ہونے کی خبر دی گئی ہے اس دجال میں بعض صفات ابن صیاد کی بھی ہوں گی اور کفر کی حالت میں جو کچھ مکر وفریب کی ابن صیاد کو مشق تھی ۔ اور جو سیرت غفلت اور دلیری اور دھوکہ دہی اس میں موجود تھی وہی صفتیں اور حصلتیں اس آنے والے دجال میں بھی ہوں گی (۴۸۰ گویا وہ اس کا مثیل ہوگا اور اس کے کفر کی حالت کا رنگ اس میں پایا جائے گا۔ لیکن گر جا سے نکلنے والا دجال جس کے بارے میں امام مسلم نے اپنی صحیح میں فاطمہ بنت قیس سے روایت کی ہے اور جس کو نہایت درجہ کا قوی ہیکل اور زنجیروں سے جکڑا ہوا بیان کیا ہے اور اس کے ایک جساسہ کی بھی خبر لکھی ہے ۔ اور یہ دجال وہ ہے جس کو تمیم داری نے کسی جزیرہ کے ایک گرجا میں دیکھا کہ خوب مضبوط بندھا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ اس کی گردن کی طرف جکڑے ہوئے تھے ۔ اس دجال پر علماء کی بہت نظر ہے کہ در حقیقت یہی دجال ہے جو آخری زمانہ میں نکلے گا ۔ اور یہ تو کسی کا بھی مذہب نہیں ا بنی اسرائیل :۳۷