ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 334

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۳۴ ازالہ اوہام حصہ دوم اپنے تمام قومی چھوڑ دیتی ہیں اور اطاعت الہی میں فانی ہو جاتی ہیں تو گویا پھر وہ روح کی حالت سے باہر آکر کلمتہ اللہ ہی بن جاتی ہیں جیسا کہ ابتدا میں وہ کلمتہ اللہ تھیں ۔ سو کلمۃ اللہ کے نام سے ان پاک روحوں کو یاد کرنا اُن کے اعلیٰ درجہ کے کمال کی طرف اشارہ ہے سوا نہیں نور کا لباس ملتا ہے اور اعمال صالحہ کی طاقت سے اُن کا خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے۔ اور ہمارے ظاہر بین علماء اپنے محدود خیالات کی وجہ سے کلمات طیبہ سے مراد محض عقائدیا اذکار واشغال رکھتے ہیں اور اعمال صالحہ سے مراد بھی اذکار وخیرات وغیرہ ہیں تو گویا وہ اس تاویل سے علت اور معلول کو ایک کر دیتے ہیں ۔ اگر چہ کلمات طیبہ بھی خدائے تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں لیکن عارفوں کے لئے یہ بطنی معنے ہیں جن پر قرآن کریم کے دقیق اشارات مشتمل ہیں ۔ (۱۵) سوال مسیح ابن مریم نے تو بہت سے معجزات سے اپنے منجانب اللہ ہونے کا ثبوت دیا تھا آپ نے کیا ثبوت دیا۔ کیا کوئی مُردہ زندہ کر دیا یا کوئی مادر زاد اندھا آپ سے اچھا ہوا ۔ اگر ہم فرض بھی کر لیں کہ آپ مثیل مسیح ہیں تو ہمیں آپ کے وجود سے کیا فائدہ ہوا؟ اما الجواب ۔ پس واضح ہو کہ انجیل کو پڑھ کر دیکھ لو کہ یہی اعتراض ہمیشہ مسیح پر رہا کہ اس نے کوئی معجزہ تو دکھایا ہی نہیں یہ کیسا صحیح ہے ۔ کیونکہ ایسا مردہ تو کوئی زندہ نہ ہوا کہ وہ بولتا اور اُس جہان کا سب حال سناتا اور اپنے وارثوں کو نصیحت کرتا کہ میں تو دوزخ میں سے آیا ہوں تم جلد ایمان لے آؤ۔ اگر مسیح صاف طور پر یہودیوں کے ۴۴۲ باپ دادے زندہ کر کے دکھا دیتا اور اُن سے گواہی دلوا تا تو بھلا کس کو انکار کی مجال تھی غرض پیغمبروں نے نشان تو دکھائے مگر پھر بھی بے ایمانوں سے مخفی رہے ۔ ایسا ہی یہ عاجز بھی خالی نہیں آیا بلکہ مُردوں کے زندہ ہونے کے لئے بہت سا آب حیات خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو بھی دیا ہے بے شک جو شخص اس میں سے پئے گا زندہ ہو جائے گا۔ بلا شبہ میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر میرے کلام سے مردے زندہ نہ ہوں اور