ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 333
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۳۳ ازالہ اوہام حصہ دوم گو اُتنا ہی ذکر فرمایا کہ کسی نبی کا جسم ایسا نہیں بنایا گیا جو بغیر طعام کے رہ سکے مگر ۴۳۹ اس کے ضمن میں کل وہ لوازم و نتائج جو طعام کو لگے ہوئے ہیں سب اشارۃ النص کے طور پر فرما دئے ۔ سو اگر مسیح ابن مریم اسی جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر گیا ہے تو ضرور ہے کہ طعام کھا تا ہو اور پاخانہ اور پیشاب کی ضروری حاجتیں سب اس کی دامنگیر ہوں کیونکہ کلام الہی میں کذب جائز نہیں ۔ اور اگر یہ کہو کہ در اصل بات یہ ہے کہ مسیح اس جسم کے ساتھ آسمان پر نہیں گیا بلکہ یہ جسم تو زمین میں دفن کیا گیا اور ایک اور نورانی جسم مسیح کو ملا جو کھانے پینے سے پاک تھا اس جسم کے ساتھ اُٹھایا گیا تو حضرت یہی تو موت ہے جس کا آخر آپ نے اقرار کر لیا ۔ ہمارا بھی تو یہی مذہب ہے کہ مقدس لوگوں کو موت کے بعد ایک نورانی جسم ملتا ہے اور وہی نور جو وہ ساتھ رکھتے ہیں جسم کی طرح اُن کے لئے ہو جاتا ہے سو وہ اس کے ساتھ آسمان کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيْبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ لا یعنی پاک روحیں جو نورانی الوجود ہیں خدائے تعالیٰ کی طرف صعود کرتی ہیں اور عمل صالح اُن کا رفع ۴۴۰ کرتا ہے یعنی جس قدر عمل صالح ہو اسی قدر روح کا رفع ہوتا ہے۔ اس جگہ خدائے تعالیٰ نے روح کا نام کلمہ رکھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے که در حقیقت تمام ارواح کلمات اللہ ہی ہیں جو ایک لا ید رک بھید کے طور پر جس کی تہ تک انسان کی عقل نہیں پہنچ سکتی روحیں بن گئی ہیں ۔ اسی بناء پر اس آیت کا مضمون بھی ہے وَكَلِمَتُهُ الْقُهَا إلى مَرْيَمَ ہے ۔ اور چونکہ یہ سر ربوبیت ہے اس لئے کسی کی مجال نہیں کہ اس سے بڑھ کر کچھ بول سکے کہ کلمات اللہ ہی بحکم و باذن ربی لباس روح کا پہن لیتے ہیں اور ان میں وہ تمام طاقتیں اور قو تیں اور خاصیتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو روحوں میں پائی جاتی ہیں اور پھر چونکہ ارواح طیبہ فنا فی اللہ ہونے کی حالت میں فاطر : 11 النساء :۱۷۲ )