ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 327
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۲۷ ازالہ اوہام حصہ دوم اس شراب طہور کا مزہ نہیں چکھا اور نہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ سچا ایمان اس کو حاصل ہو بلکہ رسم اور عادت پر خوش ہے اور کبھی نظر اس طرف اُٹھا کر نہیں دیکھتا کہ مجھے خداوند کریم پر یقین کہاں تک حاصل ہے اور میری معرفت کا درجہ کس حد تک ہے اور مجھے کیا کرنا چاہیے کہ تا میری اندرونی کمزوریاں دور ہوں اور میرے اخلاق اور اعمال اور ارادوں میں ایک زندہ تبدیلی پیدا ہو جائے۔ اور مجھے وہ عشق اور محبت حاصل ہو جائے (۴۲۹ جس کی وجہ سے میں با آسانی سفر آخرت کرسکوں اور مجھ میں ایک نہایت عمدہ قابل ترقی مادہ پیدا ہو جائے ۔ بے شک یہ بات سب کے فہم میں آسکتی ہے کہ انسان اپنی اس غافلانہ زندگی میں جو ہر دم تحت الثریٰ کی طرف کھینچ رہی ہے اور علاوہ اس کے تعلقات زن و فرزند اور ننگ و ناموس کے بوجھل اور بھاری پتھر کی طرح ہر لحظہ نیچے کی طرف لے جا رہے ہیں ایک بالائی طاقت کا ضرور محتاج ہے جو اس کو کچی بینائی اور سچا کشف بخش کر خدائے تعالی کے جمال با کمال کا مشتاق بنا دیوے۔ سو جاننا چاہیے کہ وہ بالائی طاقت الہام ربانی ہے جو عین دکھ کے وقت میں سرور پہنچاتا ہے اور مصائب کے ٹیلوں اور پہاڑوں کے نیچے بڑے آرام اور لذت کے ساتھ کھڑا کر دیتا ہے ۔ وہ دقیق در دقیق وجود جس نے عقلی طاقتوں کو خیرہ کر رکھا ہے اور تمام حکیموں کی عقل اور دانش کو سکتہ میں ڈال دیا ہے وہ الہام ہی کے ذریعہ سے کچھ اپنا پتہ دیتا ہے اور انا الموجود کہہ کر سالکوں کے دلوں کو تسلی بخشتا ہے اور سکینت نازل کرتا ہے اور انتہائی وصول کی ٹھنڈی ہوا سے جان پڑھ مردہ ۴۳۰ کو تازگی بخشتا ہے۔ یہ بات تو سچ ہے کہ قرآن کریم ہدایت دینے کے لئے کافی ہے مگر قرآن کریم جس کو ہدایت کے چشمہ تک پہنچاتا ہے اُس میں پہلی علامت یہی پیدا ہو جاتی ہے کہ مکالمہ طیبہ الہیہ اس سے شروع ہو جاتا ہے جس سے نہایت درجہ کی انکشافی معرفت اور چشم دید برکت و نورانیت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ عرفان حاصل ہونا شروع ہو جاتا ہے