ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 298

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۹۸ ازالہ اوہام حصہ اول ۳۸۴ پیشگوئی کی صورت پر نہیں جیسا کہ ہمارے بھائی مولوی صاحبان جو بڑے علم کا دم مارتے ہیں خیال کر رہے ہیں بلکہ یہ تو اس واقعہ کا بیان ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھا یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے خیالات کی جو اُس وقت حالت تھی خدائے تعالی اتماما للحجة اُنہیں سنا رہا ہے اور اُن کے دلوں کی حقیقت اُن پر ظاہر کر رہا ہے اور اُن کو ملزم کر کے انہیں یہ سمجھا رہا ہے کہ اگر ہمارا یہ بیان صحیح نہیں ہے تو مقابل پر آ کر صاف طور پر دعوی کرو کہ یہ خبر غلط بتائی گئی ہے اور ہم لوگ شکوک وشبہات میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ یقینی طور پر سمجھ بیٹھے ہیں کہ سچ سچ مسیح مصلوب ہو گیا ہے۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ آخر آیت میں جو یہ لفظ واقعہ ہے کہ قَبْلَ مَوْتِہ اس کلام سے اللہ جل شانہ کا یہ مطلب ہے کہ کوئی شخص مسیح کی عدم مصلوبیت سے یہ نتیجہ نہ نکال لیوے کہ چونکہ مسیح صلیب کے ذریعہ سے مارا نہیں گیا اس لئے وہ مرا بھی نہیں۔ سو بیان فرما دیا کہ یہ تمام حال تو قبل از موت طبعی ہے اس سے اُس موت کی نفی نہ نکال لینا جو بعد اس کے طبعی طور پر مسیح کو پیش آگئی ۔ گویا اس آیت میں یوں فرماتا ہے کہ یہود اور نصاری ہمارے اس بیان پر (۳۸۵) بالاتفاق ایمان رکھتے ہیں کہ مسیح یقینی طور پر صلیب کی موت سے نہیں مرا صرف شکوک و شبہات ہیں۔ سوقبل اس کے جو وہ لوگ مسیح کی موت طبعی پر ایمان لاویں جو در حقیقت واقعہ ہو گئی ہے۔ اس موت کے مقدمہ پر انہیں ایمان ہے کیونکہ جب مسیح صلیب کی موت سے نہیں مرا جس سے یہود اور نصاری اپنے اپنے اغراض کی وجہ سے خاص خاص نتیجے نکالنے چاہتے تھے تو پھر اُس کی طبعی موت پر بھی ایمان لانا اُن کے لئے ضروری ہے کیونکہ پیدائش کے لئے موت لازمی ہے۔ سو قبل موتہ کی تفسیر یہ ہے کہ قبل ایمانه بموته اور دوسرے طور پر آیت کے یہ بھی معنے ہیں کہ مسیح تو ابھی مرا بھی نہیں تھا کہ جب سے یہ خیالات شک وشبہ کے یہود و نصاری کے دلوں میں چلے آتے ہیں۔ پس ان معنوں کی رو سے بھی قرآن کریم بطور اشارۃ النص مسیح کے فوت ہو جانے کی شہادت دے رہا ہے غرض قرآن شریف