ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 297

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۹۷ ازالہ اوہام حصہ اول بلا میں پڑے۔ سو پہلے انہوں نے چوروں کی ہڈیاں تو ڑا ئیں اور چونکہ سخت آندھی تھی اور تاریکی ہو گئی تھی اور ہوا تیز چل رہی تھی اس لئے لوگ گھبرائے ہوئے تھے کہ کہیں جلد گھروں کو جاویں۔سو سپاہیوں کا اس موقعہ پر خوب داؤ لگا۔ جب چوروں کی ہڈیاں توڑ چکے اور مسیح کی نوبت آئی تو ایک سپاہی نے یونہی ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مر چکا ہے کچھ ضرور نہیں کہ اس کی ہڈیاں توڑی جائیں۔ اور ایک نے کہا کہ میں ہی اس لاش کو دفن کر دوں گا ، اور آندھی ایسی چلی کہ یہودیوں کو اس نے دھکے دے کر اس جگہ سے نکالا ۔ پس اس طور سے مسیح زندہ بچ گیا اور پھر وہ حواریوں کو ملا اور اُن سے مچھلی لے کر کھائی لیکن یہودی جب گھروں میں پہنچے اور آندھی فرو ہو گئی تو اپنی نا تمام کا رروائی سے شک میں پڑ گئے اور سپاہیوں کی نسبت بھی اُن کے دلوں میں ظن پیدا ہو گیا ۔ چنانچہ اب تک عیسائیوں اور یہودیوں کا یہی حال ہے کہ کوئی اُن میں سے قسم کھا کر اور اپنے نفس کے لئے بلا اور عذاب کا وعدہ دے کر نہیں (۳۸۳) کہہ سکتا کہ مجھے در حقیقت یہی یقین ہے کہ سچ مسیح قتل کیا گیا۔ یہ شکوک اُسی وقت پیدا ہو گئے تھے اور پولس نے اپنی چالاکی سے کوشش بھی کی کہ ان شکوک کو مٹاوے مگر وہ اور بھی بڑھتے گئے ۔ چنانچہ پولس کے بعض خطوط سے صاف ظاہر ہوتا ہے مسیح جب صلیب پر سے اتارا گیا تو اس کے زندہ ہونے پر ایک اور پختہ ثبوت یہ پیدا ہو گیا کہ اس کی پہلی کے چھیدنے سے فی الفور اس میں سے خون رواں ہوا ۔ یہودی اپنی شتاب کاری کی وجہ سے اور عیسائی انجیل کی روئداد موجودہ کے لحاظ سے اس شک میں شریک ہیں۔ اور کوئی عیسائی ایسا نہیں کی کے ہیں۔اور یا جو انجیل پر غور کرے اور پھر یقینی طور پر یہ اعتقاد ر کھے کہ سچ سچ مسیح صلیب کے ذریعہ فوت ہو گیا بلکہ اُن کے دل آج تک شک میں پڑے ہوئے ہیں اور جس کفارہ کو وہ لئے پھرتے ہیں اس کی ایسے ریگ کے تو وہ پر بنا رہی جس کو انجیل کے بیانات نے ہی برباد کر دیا ہے۔ سو قرآن کریم کی آیت موصوفہ بالا یعنی یہ کہ ان مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ا النساء : ١٦٠