ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 293
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۹۳ ازالہ اوہام حصہ اول داخل کیا جاتا ہے؟ سو اُن کا نبی کے زمانہ میں خاموشی اختیار کرنا ہمیشہ کے لئے حجت ہو گئی اور اُن کے ساختہ پرداختہ کا اثر اُن کی آنے والی ذریتوں پر بھی پڑا کیونکہ سلف خلف کے لئے ۳۷۵ بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنیوالی ذریت کو ماننی پڑتی ہیں۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے جو اس بحث کو چھیڑا کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا بلکہ اپنی موت سے فوت ہوا۔ اس تمام بحث سے یہی غرض تھی کہ مسیح کے مصلوب ہونے سے دو مختلف فرقے یعنی یہود اور عیسائی دو مختلف نتیجے اپنی اپنی اغراض کی تائید میں نکالتے تھے۔ یہودی کہتے تھے کہ مسیح مصلوب ہو گیا اور توریت کی رو سے مصلوب لعنتی ہوتا ہے یعنی قرب الہی سے مہجور اور رفع کی عزت سے بے نصیب رہتا ہے اور شانِ نبوت اس حالت ذلت سے برتر واعلیٰ ہے۔ اور عیسائیوں نے یہودیوں کی لعن و طعن سے گھبرا کر یہ جواب بنا لیا تھا کہ مسیح کا مصلوب ہونا اُس کے لئے مضر نہیں بلکہ یہ لعنت اُس نے اِس لئے اپنے ذمہ لے لی کہ تا گنہگاروں کو لعنت سے چھڑا دے۔ سوخدائے تعالیٰ نے ایسا فیصلہ کیا کہ ان دونوں فریق کے بیانات مذکورہ بالا کو کالعدم کر دیا اور ظاہر فرما دیا کہ کسی کو ان دونوں گروہ میں سے مسیح کے مصلوب ہونے پر یقین نہیں اور اگر ہے تو وہ سامنے آوے۔ سو وہ بھاگ گئے اور کسی نے دم بھی نہ مارا اور یہ ۳۷۶) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کا ایک معجزہ ہے جو اس زمانہ کے نادان مولویوں کی نگاہ سے چھپا ہوا ہے اور مجھے اُس ذات کی قسم ہے کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی اور اسی وقت کشفی طور پر یہ صداقت مذکورہ بالا میرے پر ظاہر کی گئی ہے اور اُسی معلم حقیقی کی تعلیم سے میں نے وہ سب لکھا ہے جو ابھی لکھا ہے۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ اور عقلی طور پر بھی اگر دیکھا جائے تو اس بیان کی سچائی پر ہر یک عقل سلیم گواہی دے گی کیونکہ خدائے تعالیٰ کا کلام لغو باتوں سے منزہ ہونا چاہیے ۔ اور ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر اس بحث میں یہ مقاصد عظمی درمیان نہ ہوں تو یہ سا را بیان ایسا لغو ہو گا