ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 292
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۹۲ ازالہ اوہام حصہ اول اعجازی بیان ہے اور یہ اس آیت کے موافق ہے جیسا کہ یہودیوں کو فرمایا تھا فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَدِقِینَ کے سواس فرمانے سے مدعا یہ تھا کہ در حقیقت یہودیوں کا یہ بیان کہ ہم نے در حقیقت مسیح کو پھانسی دے دیا جس سے یہ نتیجہ نکالنا منظور تھا کہ نعوذ باللہ سے ملعون ہے اور نبی صادق نہیں ۔ اور ایسا ہی عیسائیوں کا یہ بیان کہ در حقیقت مسیح پھانسی کی موت سے مرگیا جس سے یہ نتیجہ نکالنا منظور تھا کہ مسیح عیسائیوں کے گناہ کے لئے کفارہ ہوا۔ یہ دونوں خیال یہودیوں اور عیسائیوں کے غلط ہیں اور کسی کو ان دونوں گروہ میں سے ان خیالات پر دلی یقین نہیں بلکہ دلی ایمان اُن کا صرف اسی پر ہے کہ مسیح یقینی طور پر مصلوب نہیں ہوا۔ اس تقریر سے خدائے تعالی کا یہ مطلب تھا کہ تا یہودیوں اور عیسائیوں کی خاموشی سے منصفین قطعی طور پر سمجھ لیویں کہ اس بارے میں بجز شک کے اُن کے پاس کچھ نہیں اور یہودی اور عیسائی جو اس آیت کو سن کر چپ رہے اور ۳۷۲) انکار کے لئے میدان میں نہ آئے تو اس کی یہ وجہ تھی کہ وہ خوب جانتے تھے کہ اگر ہم مقابل پر آئے اور وہ دعوی کیا جو ہمارے دل میں نہیں تو ہم سخت رسوا کئے جائیں گے اور کوئی ایسا نشان خدائے تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہو جائے گا جس سے ہمارا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے گا۔ اس لئے انہوں نے دم نہ مارا اور چپ رہے۔ اور اگر چہ وہ خوب جانتے تھے کہ ہماری اس خاموشی سے ہمارا مان لینا ثابت ہو جائے گا جس سے ایک طرف تو ان کفار کے اس عقیدہ کی بیخ کنی ہوگی اور ایک طرف یہ یہودی عقیدہ باطل ثابت ہو جائے گا کہ مسیح خدائے تعالیٰ کا سچا رسول اور راستباز نہیں اور اُن میں سے نہیں جن کا خدائے تعالیٰ کی طرف عزت کے ساتھ رفع ہوتا ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی چھنکتی ہوئی تلوار اُن کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ پس جیسا کہ قرآن شریف میں انہیں کہا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو لیکن مارے خوف کے کسی نے یہ تمنا نہ کی۔ اسی طرح اس جگہ بھی مارے خوف کے انکار نہ کر سکے یعنی یہ دعویٰ نہ کر سکے کہ ہم تو مسیح کے مصلوب ہونے پر یقین رکھتے ہیں ہمیں کیوں بے یقینوں میں البقرة: ۹۵