ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 239

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۳۹ ازالہ اوہام حصہ اول حضرت اسمعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان کتابوں میں کوئی لفظی تحریف نہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے اور پہلے بھی ہم کئی مرتبہ ذکر کر آئے ہیں کہ جس قدر ۲۷۴ پیشگوئیاں خدائے تعالیٰ کی کتابوں میں موجود ہیں اُن سب میں ایک قسم کی آزمائش ارادہ کی گئی ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر کوئی پیشگوئی صاف اور صریح طور پر کسی نبی کے بارے میں بیان کی جاتی تو سب سے پہلے مستحق ایسی پیشگوئی کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے کیونکہ اگر مسیح کے اترنے سے انکار کیا جائے تو یہ امر کچھ مستوجب کفر نہیں لیکن اگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے انکار کیا جاوے تو بلاشبہ وہ انکار جاودانی جہنم تک پہنچائے گا مگر ناظرین کو معلوم ہوگا کہ تمام توریت وانجیل میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اور ایسا ہی حضرت مسیح کی نسبت بھی کوئی ایسی کھلی کھلی اور صاف پیشگوئی نہیں پائی جاتی جس کے ذریعہ سے ہم یہودیوں کو جا کر گردن سے پکڑ لیں ۔ حضرت مسیح بھی بار بار یہودیوں کو کہتے رہے کہ میری بابت موسیٰ نے توریت میں لکھا ہے مگر یہودیوں نے ہمیشہ انہیں یہی جواب دیا کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ ہماری کتابوں میں ایک مسیح کے آنے کی بھی خبر دی گئی ہے مگر تم خود دیکھ لو کہ مسیح کے آنے کا ہمیں یہ نشان دیا گیا ہے کہ ضرور ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے اُترے جس کا آسمان پر جانا سلاطین کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے اس کے جواب میں ہر چند (۲۷۵) حضرت مسیح یہی کہتے رہے کہ وہ ایلیا یوحنا یعنی یحیی زکریا کا بیٹا ہے مگر اس دور دراز تاویل کو کون سنتا تھا اور ظاہر تقریر کی رو سے یہودی لوگ اس عذر میں بچے معلوم ہوتے تھے سواگر چہ خدائے تعالیٰ قادر تھا کہ ایلیا نبی کو آسمان سے اتارتا اور یہودیوں کے تمام وساوس بکلی رفع کر دیتا لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا تا صادق اور کاذب دونوں آزمائے جائیں کیونکہ شریر آدمی صرف ظاہری حجت کی رو سے بے شبہ ایسے مقام میں سخت انکار کر سکتا ہے لیکن ایک راستباز آدمی کے سمجھنے کے لئے یہ راہ کھلی تھی کہ آسمان سے اترنا کسی اور طور سے تعبیر کیا جائے اور ایک نبی جو دوسری علامات صدق اپنے ساتھ رکھتا ہے