ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 238

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۳۸ ازالہ اوہام حصہ اول قبول کرنے کے بارہ میں جو مشکلات پیش آگئے تھے اتنے بڑے مشکلات ہمارے بھائی مسلمانوں کو ہرگز پیش نہیں آئے کیونکہ سلاطین ۲ باب ۲ میں صاف طور پر لکھا ہوا اب تک موجود ہے کہ ایلیا نبی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اُٹھایا گیا اور چادر اُس کی زمین پر گر پڑی اور پھر ملا کی باب ۴ آیت ۵ میں ایسی ہی صفائی کے ساتھ وعدہ دیا گیا ہے کہ پھر وہ دنیا میں آئے گا اور مسیح کے لئے راہ درست کرے گا لیکن ہمارے بھائی مسلمان ان تمام مشکلات سے بالکل آزاد ہیں کیونکہ قرآن شریف میں جسم کے ساتھ اُٹھائے جانے کا اشارہ تک بھی نہیں بلکہ مسیح کے فوت ہو جانے کا بتصریح ذکر ہے اگر چہ حدیثوں کی بے سروپا روایتوں میں سند منقطع کے ساتھ ایسا ذکر بہت سے تناقض سے بھرا ہوا کہیں کہیں پایا جاتا ہے لیکن ساتھ اس کے انہیں حدیثوں میں مسیح کا فوت ہونا بھی بیان کیا گیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ باوجود اس تعارض اور ۲۷۳ تناقض کے ضرورت ہی کیا ہے جو غیر معقول شق کی طرف توجہ کی جائے جس حالت میں قرآن اور حدیث کی رو سے وہ راہ بھی کھلی ہوئی نظر آتی ہے جس پر کوئی اعتراض شرع اور عقل کا نہیں یعنی مسیح کا فوت ہو جانا اور روح کا اُٹھایا جانا تو کیوں ہم اُسی راہ کو قبول نہ کریں جس پر قرآن شریف کی بینات زور دے رہی ہیں؟۔ ہم نے ایلیا کے صعود ونزول کا قصہ اس غرض سے اس جگہ لکھا ہے کہتا ہمارے بھائی مسلمان ذرہ غور کر کے سوچیں کہ جس مسیح ابن مریم کے لئے وہ لڑتے مرتے ہیں اُسی نے یہ فیصلہ دیا ہے اور اسی فیصلہ کی قرآن شریف نے بھی تصدیق کی ہے۔ اگر آسمان سے اتر نا اسی طور سے جائز نہیں جیسے طور سے ایلیا کا اُترنا حضرت مسیح نے بیان فرمایا ہے تو پھر مسیح منجانب اللہ نبی نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ قرآن شریف پر بھی اعتراض آتا ہے جو مسیح کی نبوت کا مصدق ہے۔ اب اگر مسیح کو سچا نبی ماننا ہے تو اس کے فیصلہ کو بھی مان لینا چاہیے زبر دستی سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ یہ ساری کتابیں محرف و مبدل ہیں بلا شبہ ان مقامات سے تحریف کا کچھ علاقہ نہیں اور دونوں فریق یہود و نصاری ان عبارتوں کی صحت کے قائل ہیں اور پھر ہمارے امام المحدثین