ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 174
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۷۴ ازالہ اوہام حصہ اول دعوی کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر اور معنے نہیں ہو سکتے بلکہ وہ تو مسنون طور پر تفاصیل کو حوالہ بخدا کرتے رہے ہیں۔ پھر یہ بھی ہم بخوبی ظاہر کر چکے ہیں کہ اس پیشگوئی کو صرف ظاہری الفاظ تک محدود رکھنے میں بڑی بڑی مشکلات ہیں قبل اس کے جو مسیح آسمان سے اترے صد با اعتراض پہلے ہی سے اتر رہے ہیں ان مشکلات میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا ہے اور ہمیں اس بات کی کیا حاجت کہ ابن مریم کو آسمان سے اُتارا جائے اور ان کا نبوت سے الگ ہونا تجویز کیا جائے اور ان کی اس طرح پر تحقیر کی جائے کہ دوسرا شخص امامت کرے اور وہ پیچھے مقتدی بنیں اور دوسرا شخص اُن کے روبرو لوگوں سے بیعت امامت و خلافت لے اور وہ بدیدۂ حسرت دیکھتے رہیں اور احد (1) المسلمین بن کر اپنی نبوت کا دم نہ مارسکیں اور ہم اس قریب الشرک بلکہ سراسر شرک سے بھرے ہوئے کلمے کو کیوں منہ سے بولیں کہ دجال یک چشم خدائے تعالی کی طرح اپنے اقتدار سے مُردوں کو زندہ کرے گا اور صریح صریح خدائی کی علامتیں دکھلا دے گا اور کوئی اسے یہ نہیں کہے گا کہ اے یک چشم خدا پہلے تو اپنی آنکھ درست کر ۔ کیا وہ تو حید جو اسلام نے ہمیں سکھائی ہے ایسی قدرتیں کسی مخلوق میں روا رکھتی ہے کیا اسلام نے ان واہیات باتوں کو اپنے پیروں کے نیچے کچل نہیں دیا عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک خرد جال بھی گویا ایک حصہ خدا ہی کا رکھتا ہے اور کہتے ہیں کہ اُس خر کا پیدا کرنے والا دجال ہی ہے ۔ پھر جبکہ وہ دجال و ممیت اور خالق بھی ہے تو اس کے خدا ہونے میں کسر کیا رہ گئی ؟ اور اس گدھے کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ وہ مشرق و مغرب میں ایک روز میں سیر کر سکے گا مگر ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجال سے مراد با اقبال قو میں ہوں اور گدھا اُن کا یہی ریل ہو جو مشرق اور مغرب کے ملکوں میں ہزار ہا کوسوں تک چلتی دیکھتے ہو۔ پھر مسیح کے بارہ میں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا طبعی اور فلسفی لوگ اس خیال پر نہیں ہنسیں گے کہ جبکہ تھیں یا چالیس ہزار فٹ تک زمین سے اوپر کی طرف جانا موت کا موجب ہے تو حضرت مسیح اس جسم عنصری کے ساتھ محیی