ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 173

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۷۳ ازالہ اوہام حصہ اول کہ شائد اس پیشگوئی کی ایسی تفاصیل مخفی ہوں جواب تک کھلی نہیں درحقیقت تمام انبیاء کا یہی مذہب رہا ہے کہ وہ پیشگوئی کی اصل حقیقت کو خدائے تعالی کے وسیع علم پر چھوڑتے رہے ہیں اسی وجہ سے وہ مقدس لوگ باوجود بشارتوں کے پانے کے پھر بھی دعا سے دستبردار نہیں ہوتے تھے جیسا کہ بدر کی لڑائی میں فتح کا وعدہ دیا گیا تھا مگر ہمارے سید و مولی رو رو کر دعائیں کرتے رہے اس خیال سے کہ شاید پیشگوئی میں کوئی ایسے امور مخفی ہوں یا وہ کچھ ایسے شروط کے ساتھ وابستہ ہوں جن کا علم ہم کو نہیں دیا گیا۔ اور یہ دعویٰ کہ تمام صحابہ اور اہل بیت اسی طرح مانتے چلے آئے ہیں جیسا کہ ہم ۔ یہ بالکل لغو اور بلا دلیل ہے فرد فرد کی رائے کا خدا ہی کو علم ہو گا کسی نے اُن سب کے اظہارات لکھ کر کب قلمبند کئے ہیں یا کب کسی نے اپنے منہ سے اُن کے بیانات سن کر شائع کئے ہیں باوجود یکہ (۱۳۴) ۔۔۔۔ صحابی دس ہزار سے بھی کچھ زیادہ تھے مگر اس پیشگوئی کے روایت کرنے والے شاید دو یا تین تک نکلیں تو نکلیں اور ان کی روایت بھی عام طور پر ثابت نہیں ہوتی کیونکہ بخاری جو حدیث کے فن میں ایک ناقد بصیر ہے اُن تمام روایات کو معتبر نہیں سمجھتا یہ خیال ہر گز نہیں ہو سکتا کہ بخاری جیسے جد و جہد کرنے والے کو وہ تمام روایات رطب و یا بس پہنچی ہی نہیں بلکہ صحیح اور قرین قیاس یہی ہے کہ بخاری نے اُن کو معتبر نہیں سمجھا اُس نے دیکھا کہ دوسری حدیثیں اپنی ظاہری صورت میں امامکم منکم کی حدیث سے معارض ہیں اور یہ حدیث غایت درجہ کی صحت پر پہنچ گئی ہے اس لئے اُس نے ان مخالف المفہوم حدیثوں کو ساقط الاعتبارسمجھ کراپنی صحیح کو ان سے پر نہیں کیا۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ ہرگز خیر القرون کا اس امر پر اجماع ثابت نہیں ہوسکتا کہ ضرور حضرت مسیح دمشق میں ہی نازل ہوں گے کیونکہ بخاری امام فن نے اس حدیث کو نہیں لیا ابن ماجہ اس حدیث کا مخالف ہے اور بجائے دمشق کے بیت المقدس لکھتا ہے اسی طرح کسی (۱۴۵) کے منہ سے کچھ نکل رہا ہے اور کسی کے منہ سے کچھ پس اجماع کہاں ہے؟ اگر فرض کے طور پر اجماع بھی ہوتا تو پھر بھی کیا حرج تھا کیونکہ ان بزرگوں نے کب