ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 115
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۱۵ ازالہ اوہام حصہ اول جس قدر مشرکین کا کینہ ترقی کر گیا تھا اس کا اصل باعث وہ سخت الفاظ ہی تھے جو اُن نادانوں نے دشنام کی صورت پر سمجھ لئے تھے جن کی وجہ سے آخر کسان سے سنان تک نوبت پہنچی ورنہ اوّل حال میں تو وہ لوگ ایسے نہیں تھے بلکہ کمال اعتقاد سے آنحضرت صلی اللہ (۲۵) علیہ وسلم کی نسبت کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلى رَبِّهِ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب پر عاشق ہو گئے ہیں جیسے آج کل کے ہندو لوگ بھی کسی گوشہ نشین فقیر کو ہر گز پر انہیں کہتے بلکہ نذریں نیازیں دیتے ہیں۔ اس جگہ مجھے نہایت افسوس اور نمکین دل کے ساتھ اس بات کے ظاہر کرنے کی بھی حاجت پڑی ہے کہ یہ اعتراض جو مجھ پر کیا گیا ہے یہ صرف عوام الناس کی طرف سے ہی نہیں بلکہ میں نے سنا ہے کہ بانی مبانی اس اعتراض کے بعض علماء بھی ہیں ۔ سو میں ان کی شان میں یہ تو ظن نہیں کر سکتا کہ وہ قرآن شریف اور کتب سابقہ سے بے خبر ہیں اور نہ کسی طور سے جائے ظن ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ آج کل کی یورپ کی جھوٹی تہذیب نے (۲۶) ☆ قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے ایک غایت ۲۵ حاشیه: درجہ کا نجی اور سخت درجہ کا نادان بھی اُس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلا زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف کفار کو سُنا سنا کر (۲۶ ان پر لعنت بھیجتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اوتيك عَلَيْهِمُ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ خَلِدِينَ فِيهَا لا الجزر واسورة بقره - أو لَيْكَ يَلْعَنُهُمُ اللهُ وَيَلْعَنُهُمُ العنون الجزو نمبر ۲ ۔ ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی گالی ہے لیکن قرآن شریف نہ صرف حیوان بلکہ کفار اور منکرین کو دنیا کے تمام حیوانات سے بدتر قرار دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اِنَّ شَرَّ الدَّوَاب عِنْدَ اللهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا ۔ ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی خاص آدمی کا نام لے کر یا اشارہ کے طور پر اس کو نشانہ بنا کر گالی دینا زمانہ حال کی (۲۷) البقرة : ١٦٣،١٦٢ البقرة : ۱۶۰ ۳ الانفال: ۵۶