ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 114

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۱۴ ازالہ اوہام حصہ اول سمجھنے کی مس تک نہیں نہیں خیال کرتا کہ اگر یہ آیت ہر یک طور کی سخت زبانی سے متعلق کبھی جائے تو پھر امر معروف اور نہی منکر کا دروازہ بند ہو جانا چاہیے اور نیز اس صورت میں خدائے تعالیٰ کا کلام دو متناقض امروں کا جامع ماننا پڑے گا یعنی یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اول تو اُس نے ہر ایک طور کی سخت کلامی سے منع فرمایا اور ہر یک محل میں کفار کا ۲۲) دل خوش رکھنے لئے تاکید کی اور پھر آپ ہی اپنے قول کے مخالف کا رروائی شروع کر دی اور ہر یک قسم کی گالیاں منکروں کو سنائیں بلکہ گالیاں دینے کے لئے تاکید کی۔ سو جاننا چاہیے کہ جن مولویوں نے ایسا خیال کیا ہے کہ گو یا عام طور پر ہر یک سخت کلامی سے خدائے تعالیٰ منع فرماتا ہے ۔ یہ اُن کی اپنی سمجھ کا ہی قصور ہے ورنہ وہ تلخ الفاظ جو ا ظہا ر حق کے لئے ضروری ہیں اور اپنے ساتھ اپنا ثبوت رکھتے ہیں وہ ہر یک مخالف کو صاف صاف سنا دینا نہ صرف جائز بلکہ واجبات وقت سے ہے تا مداہنہ کی بلا میں مبتلا نہ ہو جا ئیں ۔ خدائے تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ایسی سخت تبلیغ کے وقت میں کسی لائن کی لعنت اور کسی لائم کی علامت سے ہر گز نہیں ڈرے ۔ کیا معلوم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں عمر شباب پہنچنے کے وقت کسی چا کو خیال تک نہیں آیا کہ آخر ہم بھی تو باپ ہی کی طرح ہیں شادی وغیرہ امور ضروریہ کے لئے کچھ فکر کریں حالانکہ اُن کے گھر میں اور اُن کے دوسرے اقارب میں بھی لڑکیاں تھیں۔ سو اس جگہ بالطبع یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر سرد مہری اُن لوگوں سے کیوں ظہور میں آئی اس کا واقعی جواب یہی ہے کہ ان لوگوں نے ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ایک لڑکا یتیم ہے جس کا باپ نہ ماں ہے بے سامان ہے جس کے پاس کسی قسم کی جمعیت نہیں نادار ہے جس کے ہاتھ پلے کچھ بھی نہیں ایسے مصیبت زدہ کی ہمدردی سے فائدہ ہی کیا ہے اور اُس کو اپنا داماد بنانا تو گویا اپنی لڑکی کو تباہی میں ڈالنا ہے مگر اس بات کی خبر نہیں تھی کہ وہ ایک شہزادہ اور روحانی بادشاہوں کا سردار ہے جس کو دنیا کے تمام خزانوں کی گنجیاں دی جائیں گی ۔ منہ