ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 97

روحانی خزائن جلد۳ ۹۷ ہر یک منکر کا ملوں کی حالت کا گواہ ہو جائے کیونکہ جب کہ وہ اپنے چھوٹے سے دائرہ استعداد میں کچھ نمونہ ان باتوں کا دیکھتا ہے جو ان کا ملوں کی زبان سے سنتا ہے پس اس تھوڑی سی جھلک کی وجہ سے اسکے لئے یہ مکن نہیں کہ اپنے سچے دل سے ان الہامی امور کو (۸۸) بکلی غیر ممکن سمجھے۔ سو وہ اس روحانی خاصیت کا ایک ذرا سا نمونہ اپنے اندر رکھنے کی وجہ سے خدائے تعالیٰ کے الزام کے نیچے ہے جس کے رو سے بحالت انکار وہ پکڑا جائے گا۔ جیسا کہ آجکل کے آریہ خیال کر رہے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے چاروں ویدوں کو نازل کر کے پھر یکلخت ہمیشہ کے لئے الہامات کی صف کو لپیٹ دیا ہے مگر خدائے تعالیٰ کا قانونِ قدرت انہیں ملزم کرتا ہے جبکہ وہ بچشم خود دیکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ انکشافات غیبیہ کا اب تک جاری ہے اور انمیں سے فاسق آدمی بھی کبھی کبھی کچی خوا میں دیکھ لیتے ہیں ۔ پس ظاہر ہے کہ وہ خدا جس نے اپنا روحانی فیض نازل کرنے سے اس زمانہ کے فاسقوں اور دنیا پرستوں کو بھی محروم نہیں رکھا اور ان پر بھی با وجود فقدان کامل مناسبت کے کبھی کبھی رشحات فیض نازل کرتا ہے تو اپنے نیک بندوں پر جو اس کی مرضی پر چلیں اور اکمل اور اتم طور پر اس سے مناسبت رکھیں کیا کچھ نازل کرتا نہیں ہوگا اور ایک بھید اس تخمی مشارکت میں یہ ہے کہ تا ہر ایک شخص گو وہ کیسا ہی فاسق بدکاریا کافر خونخوار ہو اس مشارکت پر غور کرنے سے سمجھ لیوے کہ خدائے تعالیٰ نے