ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 96

روحانی خزائن جلد۳ ۹۶ سے نبوت اور ولایت کو کچھ صدمہ نہیں پہنچتا اور ان کی شان بلند میں کچھ بھی فرق نہیں آتا اور کوئی التباس حیران کرنے والا واقعہ نہیں ہوتا کیونکہ درمیان میں ایک ایسا فرق بہین ہے کہ جو بدیہی طور پر ہر یک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خواص اور عام کی خوا ہیں اور مکاشفات اپنی کیفیت اور کمیت اتصالی وانفصالی میں ہرگز برابر نہیں ہیں ۔ جو لوگ خدائے تعالیٰ کے خاص بندے ہیں وہ خارق عادت کے طور پر نعمت غیبی کا حصہ لیتے ہیں۔ دنیا ان نعمتوں میں جو انہیں عطا کی جاتی ہیں صرف ایسے طور کی شریک ہے جیسے شاہ وقت کے خزانہ کے ساتھ ایک گدا دریوزہ گر ایک درم کے حاصل رکھنے کی وجہ سے شریک خیال کیا جائے لیکن ظاہر ہے کہ اس (۸۷) ادنی مشارکت کی وجہ سے نہ بادشاہ کی شان میں کچھ شکست آسکتی ہے اور نہ اس گدا کی کچھ شان بڑھ سکتی ہے اور اگر ذرہ غور کر کے دیکھو تو یہ ذرہ مثال مشارکت ایک کرم شب تاب بھی جس کو پٹ بھیجنا یا جگنو بھی کہتے ہیں آفتاب کے ساتھ رکھتا ہے تو کیا وہ اس مشارکت کی وجہ سے آفتاب کی عزت میں سے کوئی حصہ لے سکتا ہے۔ سو جاننا چاہیے کہ در حقیقت تمام فضیلتیں با عتبار اعلیٰ درجہ کے کمال کے جو کمیت اور کیفیت کی رو سے حاصل ہو پیدا ہوتی ہیں یہ نہیں کہ ایک حرف کی شناخت سے ایک شخص ایک فاضل اجل کا ہم پایہ ہو جائے گا یا اتفاقا ایک مصرعہ بن جانے سے بڑے شاعروں کا ہم پلہ کہلائے گا۔ ذرہ مثال شراکت سے کوئی نوع حکمت یا حکومت کی خالی نہیں۔ اگر ایک بادشاہ سارے جہان کی حکومت کرتا ہے تو ایسا ہی ایک مزدور آدمی اپنی جھونپڑی میں اپنے بچوں اور اپنی بیوی پر حاکم ہے۔ رہی یہ بات کہ خدائے تعالیٰ نے نیک بختوں اور بدبختوں میں مشارکت کیوں رکھی اور تخم کے طور پر غافلین کے گروہ کو عمت غیبی کا کیوں حصہ دیا۔ اسکا جواب یہ ہے کہ الزام اور اتمام حجت کے لئے تا اس تخمی شراکت کی وجہ سے