استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 494

استفتاء — Page 115

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۱۵ استفتاء سے سرا پا لبریز ہے۔ مجھے دیر وزہ خط کی شرائط پر بحث کرنی منظور ہے اور آپ صریحاً حیلہ و حوالہ ثال مثال و اے کے حجت انگیزی کر رہے ہیں مرزا جی افسوس افسوس آپ کو تصفیہ منظور نہیں ہے کسی نے کیا سچ کہا ہے عذر نا معقول ثابت می کند تقصیر را۔ علاوہ بر آں آپ مسیح ثانی ہیں۔ دعویٰ خود کو اثبات کر دکھائیے ورنہ بے ہودہ شور وشر نہ مچاہیے لیکھر ام از آریہ سماج قادیان ۹ بجے دن کے“۔ پانچواں خط ۔ مرزا صاحب ۔ کندن کوہ (اس کے آگے ایک شکستہ لفظ ہے جو پڑھا نہیں جاتا ) افسوس کہ آپ اسپ خود کو اسپ اور اوروں کے اسپ کو خچر قرار دیتے ہیں۔ میں نے ویدک اعتراض کا عقل سے جواب دیا اور آپ نے قرآنی اعتراض کا نقل سے مگر وہ عقل سے بسا بعید ہے۔ اگر آپ فارغ نہیں تو مجھے بھی کام بہت ہے اچھا آسمانی نشان تو دکھاویں اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رب العرش خیر الماکرین سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان تو مانگیں تا فیصلہ ہو یا لیکھرام ان تمام خطوط کے جواب میں مفصل خط لکھے گئے تھے جن کا نقل کرنا اس جگہ ضروری نہیں۔ لیکھرام کی طبیعت میں افتراء اور جھوٹ کا مادہ بہت تھا اس لئے وہ ہار ہارا اپنے خطوط میں لکھتا ہے کہ بحث نہیں کرتے اس جگہ یکھرام نے نشان مانگنے کے وقت خدا تعالیٰ کا نام خیر الماکرین رکھا۔ اور خدا تعالیٰ کے بارے میں ماکر کا لفظ اس صورت میں بولا جاتا ہے کہ جب وہ بار یک اسباب سے مجرم کو ہلاک یا ذلیل کرتا ہے۔ پس لیکھرام کے منہ سے خود وہ الفاظ نکل گئے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنی موت کا نشان مانگتا تھا یعنی ایسا نشان جس کے اسباب بہت باریک ہوں۔ سوخدا کی قدرت ہے کہ اسی طرح اس کی موت ہوئی اور ایسے قاتل کے ہاتھ سے مارا گیا جس کی کارروائی ہر ایک کو نہایت تعجب میں ڈالتی ہے کہ کیوں کر اس نے عین روز روشن میں حملہ کیا اور کیوں کر آباد گھر میں ہاتھ اٹھانے کی اس کو جرات ہوئی اور کیونکر وہ چھری مار کر صاف نکل گیا اور پھر کیونکر ہندوؤں کی ایک آباد گلی میں باوجود مقتول کے وارثوں کے شور دہائی کے پکڑا نہ گیا ۔ سو جب ہم ان واقعات کو غور سے سوچتے ہیں تو فی الفور طبیعت اس طرف چلی جاتی ہے کہ یہی وہ کام ہے جس کو خیر الماکرین کی طرف منسوب کرنا چاہیے۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ خدا کا نام قرآن شریف کی رو سے خیر الماکرین اس وقت کہا جاتا ہے کہ جب وہ کسی مجرم مستوجب سزا کو باریک اسباب کے استعمال سے سزا میں گرفتار کرتا ہے یعنی ایسے اسباب اس کی سزا کے اس کے لئے مہیا کرتا ہے کہ جن اسباب کو مجرم کسی اور ارادہ سے اپنے لئے آپ مہیا کرتا ہے۔ پس وہی اسباب جو اپنی بہتری یا ناموری کے لئے مجرم جمع کرتا ہے وہی اس کی ذلت اور ہلاکت